نئی دہلی: منی پور میں دو خواتین کی برہنہ عصمت دری کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد انتظامی لاپرواہی کھل کر سامنے آرہی ہے۔ انڈین ایکسپریس کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دونوں خواتین کی جنسی ہراسانی کی شکایت درج کرنے اور ویڈیو کے منظر عام پر آنے کے درمیان 62 دنوں میں ریاست میں سیکورٹی انتظامات اور سیکورٹی کی صورتحال پر کئی اعلیٰ سطحی میٹنگیں ہوئیں جہاں مرکزی وزراء اور وزرائے اعلیٰ سمیت اعلیٰ حکام بھی پہنچے۔
اخبار کے مطابق مذکورہ واقعہ 3 مئی کو تشدد شروع ہونے کے اگلے دن تھوبل میں پیش آیا، جس کے بارے میں 18 مئی کو لواحقین کے شوہروں کی جانب سے شکایت درج کروائی گئی۔ تاہم بدھ کو واقعے کی ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد پولیس نے کارروائی کی اور چاروں ملزمان کی گرفتاری کی تصدیق کردی۔
شکایت درج کرنے سے لے کر ویڈیو کے وائرل ہونے تک کئی اعلیٰ سطحی رہنما اور عہدیدار ریاست پہنچ چکے ہیں اور ریاست میں جاری تشدد پر میٹنگیں کی ہیں۔
27 مئی کو آرمی چیف منوج پانڈے نے سیکورٹی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے ریاست کا دورہ کیا۔
اخبار کے مطابق سی ایم برین سنگھ، ڈی جی پی راجیو سنگھ اور منی پور یونیفائیڈ کمان کے سربراہ کلدیپ سنگھ نے اس سوال کا جواب نہیں دیا کہ آیا ان ریاستی سطح کی سیکورٹی جائزہ میٹنگوں میں جنسی ہراسانی کا مذکورہ معاملہ اٹھایا گیا تھا۔
جب اخبار میں پولیس کی کارروائی میں دو ماہ سے زیادہ کی تاخیر کے بارے میں پوچھا گیا تو تھوبل کے ایس پی سچیدانند نے کہا کہ اب تک پولیس ‘ثبوت کی کمی’ کی وجہ سے کوئی کارروائی نہیں کر سکی ہے۔







