نئی دہلی :(ایجنسی)
یوکرین پر روس کے حملے کے بعد سب سے بڑی تشویش وہاں کے عام لوگوں کی جانوں کا تحفظ ہے۔ 20 ہزار ہندوستانی یوکرین میں پھنسے ہوئے ہیں اور ان کے اہل خانہ مسلسل حکومت سے وہاں پھنسے لوگوں کو واپس لانے کی درخواست کر رہے ہیں، جیسا کہ روسی افواج یوکرین کے دارالحکومت کیف تک پہنچ چکی ہیں اور یوکرین کے کئی شہروں پر بمباری کی جا رہی ہے، ان کے خدشات بڑھتے جا رہے ہیں۔
اس سب کے درمیان ہندوستانی حکومت نے یوکرین میں پھنسے ہندوستانیوں کو بچانے کا منصوبہ تیار کیا ہے۔
کیونکہ یوکرین نے اپنی فضائی حدود بند کر دی ہے، ایسے میں وہاں پھنسے ہندوستانیوں کو یوکرین سے نکالنے کے لیے سڑک کا راستہ استعمال کرنا پڑے گا۔ اس کے لیے ہندوستان نے کچھ محفوظ راستوں کا انتخاب کیا ہے۔

ہندوستان کے خارجہ سکریٹری ہرش وردھن سنگلا نے کہا ہے کہ اگر آپ کیف سے بذریعہ سڑک پیدل چلتے ہیں تو آپ 9 گھنٹے میں پولینڈ پہنچ جائیں گے اور رومانیہ پہنچنے میں آپ کو 12 گھنٹے لگیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے لیے پورا روٹ تیار کر لیا گیا ہے۔
وزارت خارجہ نے 24 گھنٹے کا کنٹرول روم بھی تیار کیا ہے جو یوکرین میں پھنسے ہندوستانیوں کو مدد فراہم کرے گا۔ بتادیں کہ ہندوستانی طلباء کی ایک بڑی تعداد بھی یوکرین میں رہتی ہے اور ان کے والدین اپنے بچوں کی بحفاظت واپسی کے لیے بہت فکر مند ہیں۔
جمعرات کو جب وزیر اعظم نریندر مودی نے روسی صدر ولادیمیر پوین سے بات کی تو انہوں نے یوکرین میں پھنسے ہوئے ہندوستانیوں کی حفاظت پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستانیوں کو یوکرین سے نکالنا ان کی حکومت کی پہلی ترجیح ہے۔
یوکرین، ہنگری اور پولینڈ میں ہندوستانی سفارت خانوں نے کئی ایڈوائزری جاری کیے ہیں جن میں بتایا گیا ہے کہ ضرورت پڑنے پر لوگ پناہ گاہیں کیسے تلاش کر سکتے ہیں۔
دوسری جانب روس دنیا کے تمام ممالک کی جانب سے عائد پابندیوں کے بعد بھی پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں اور لگتا ہے کہ آنے والے چند گھنٹوں میں وہ یوکرین کے دارالحکومت کیف پر قبضہ کر لے گا۔










