نئی دہلی : (ایجنسی)
لکھیم پور کھیری میں ہوئے تشدد کو لے کر بی جے پی رکن پارلیمنٹ اورمرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ اجے مشرا کا نام کافی بحث میں ہے۔ ان کے بیٹے کو اس کیس میں نامزد ملزم بنایا گیا ہے۔ اپوزیشن پارٹیاں ان کے استعفیٰ کی مانگ کر رہی ہیں ، لیکن اب جو سامنے آئی ہے ، اس میں بتایا گیا ہے کہ وہ استعفیٰ نہیں دیں گے ۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر مملکت برائے داخلہ اجے مشرا ٹینی کی طرف سے کوئی استعفیٰ نہیں دیا جائے گا۔ آج صبح (بدھ) انہوں نے وزیر داخلہ امت شاہ سے ملاقات کی اور پورے معاملے سے آگاہ کیا،حالانکہ امت شاہ نے انہیں بلایا نہیں تھا۔ وہیں وزیر مملکت برائے داخلہ نے انڈیا ٹو ڈے کو بتایا کہ جانچ منصفانہ انداز میں کی جاری ہیں۔ کئی ایجنسیاں بغیر کسی دباؤ کے کام کررہی ہیں ، اپوزیشن سازش کے تحت استعفیٰ کی مانگ کررہی ہے ۔
اجے مشرا وزیر داخلہ سے ملاقات کے بعد ایم او ایس نارتھ بلاک پہنچے اور معمول کا کام دوبارہ شروع کیا۔ بتادیں کہ بیورو آف پولیس ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ ( بی پی آر ڈی) نے 7 اکتوبر کو ہونے والے اپنے پروگرام (7th National Conference of Prisona)میں اجے مشرا کو خصوصی مہمان کے طور پر بلایا ہے ۔ بحث تھی کہ وہ پرگرام میں نہیں شامل ہوں گے،لیکن ایم او ایس جمعرات کو پرگرام میں شرکت کریں گے۔
واضح رہے کہ لکھیم پور کھیری واقعہ کے حوالے سے مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ اجے مشرا کے بیٹے پر اپوزیشن کے تیور بہت گرم ہے۔ دعویٰ ہے کہ ان کے بیٹے کی موجودگی میں کار سے کچل کر کسانوں کی جان لے لی گئی ۔ وہیں رکن پارلیمنٹ اور مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ اجے مشرا ٹینی نے چیلنج دیتےہوئے کہا ہے کہ اگر کوئی جائےوقوع پر ان کے بیٹے کی موجودگی کا ایک بھی ویڈیو دکھادے تو وہ وزیر کا عہدہ سے استعفیٰ دے دیں گے ۔










