پٹنہ ہائی کورٹ نے بہار میں ریاستی حکومت کی طرف سے کرائی جا رہی ذات پات کی مردم شماری پر روک لگا دی ہے۔ اس معاملے پر اگلی سماعت 3 جولائی کو ہوگی۔ ہائی کورٹ کے حکم امتناعی کے بعد بہار میں سیاست تیز ہوگئی ہے۔ اس معاملے پر لالو پرساد کا بیان آیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ بہار میں ذات پات کی مردم شماری ہوگی۔
لالو پرساد نے ایک ٹوئٹ میں لکھا کہ ’’ ذات پات کی مردم شماری عوام کی اکثریت کی مانگ ہے اور ہو گی۔ بھارتیہ جنتا پارٹی اکثریتی پسماندہ ہندوؤں کی گنتی سے کیوں ڈرتی ہے؟ جو ذات پات کی گنتی کے خلاف ہے وہ برابری، انسانیت، مساوات کے خلاف ہے اور اونچ نیچ، غربت، بے روزگاری، پسماندگی، سماجی اور معاشی تفریق کا حامی ہے۔ ذات پات کی مردم شماری پر بی جے پی کی مکروہ چال اور چالاکیوں کو ملک کے عوام سمجھ چکے ہیں۔
لالو کے علاوہ بہار کے نائب وزیر اعلی تیجسوی یادو نے بھی اس معاملے پر ردعمل ظاہر کیا ہے۔ تیجاشوی نے کہا، ”ذات پر مبنی گنتی لوگوں کے فائدے کے لیے ہے۔ اس سروے کا مطالبہ بھی عوام کا تھا۔ یہ سروے فائدہ مند ہوتا۔ اس سے غربت کو دور کرنے، پسماندگی کو دور کرنے اور سماج کے آخری طبقے تک سرکاری اسکیموں کے فائدے پہنچانے میں مدد ملتی۔ عوام کی معاشی حالت کیا ہے؟ یہ بھی شامل تھا۔ یہ سروے کسی خاص ذات کے بارے میں نہیں تھا، یہ سب کے بارے میں تھا۔







