بھوپال :(ایجنسی)
مدھیہ پردیش کے اندورضلع میں ایک کھلی جگہ پر بڑی تعداد میں گایوں کی باقیات کی تصویریں سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پرگردش کرنےسے ہنگامہ آرائی کے بیچ ایک ٹرسٹ کی طرف سے چلائی جانے والی گئوشالا کے منیجر کے خلاف ایک مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ایک پولیس افسر نے جمعرات کو یہ جانکاری دی۔
دی وائر کی رپورٹ کے مطابق حکام نے بتایا کہ اندور شہر سے تقریباً 35 کیلومیٹر دور پیڑمی گاؤں میں شری اہلیا ماتا جیودیا منڈل ٹرسٹ کے زیر انتظام گئو شالہ میں بڑی تعداد میں گایوں کی موت اور ان کے لاشوں کی بدسلوکی کا معاملہ اس وقت سامنے آیا جب مبینہ طور پر گئو بھکتوں کاایک گروپ گئو شالہ پہنچا۔ انہوں نے بتایا کہ گئوبھکتوں میں سے ایک منوج تیواری نے پولیس سے شکایت کی کہ ان کے گروپ نےگئو شالاکےقریب کھلے میدان میں تقریباً 150 گایوں کی باقیات اور کنکال پڑے ہوئے دیکھے، جنہیں کتے اور گدھ نوچ کرکھا رہے تھے۔پولیس سپرنٹنڈنٹ (دیہی) بھگوت سنگھ وردے نے بتایا کہ تیواری کی شکایت پرگئو شالا کے منیجر اشوک پستور کے خلاف متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ گزشتہ دنوں گایوں کی موت کی اصل تعداد اور ان کی موت کی وجہ کیا ہے تو انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں ویٹرنری ڈپارٹمنٹ کی طرف سے پوسٹ مارٹم اور جانچ کے بعد ہی صورتحال واضح ہو سکے گی۔پولیس سپرنٹنڈنٹ نے کہا، ہم معاملے کی جانچ کر رہے ہیں۔ پہلی نظر میں ایسا لگ رہا ہے کہ گئو شالا میں گایوں کی موت کے بعد ان کی لاشوں کو ڈھنگ سے ٹھکانے نہیں لگایا گیا اور انہیں لاپرواہی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کھلی جگہ پر پھینک دیا گیا۔
معاملہ طول پکڑنے کے درمیان گئوشالا میں گایوں کی موت کی انتظامی جانچ کا بھی حکم دیا گیا ہے۔حکام نے بتایا کہ ضلع مجسٹریٹ منیش سنگھ نے سب ڈویژنل مجسٹریٹ (ایس ڈی ایم) کو تحقیقات سونپنے کے ساتھ ساتھ حکم دیا ہے کہ مردہ گایوں کا احترام کے ساتھ آخری رسوم اداکیا جائے۔










