نئی دہلی: ملک میں یکساں سول کوڈ کے حوالے سے لاء کمیشن کو تجاویز دینے کا آج آخری دن ہے۔ اب تک لا کمیشن کو تقریباً 80 لاکھ پیغامات موصول ہو چکے ہیں۔ لا کمیشن کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں وہ ان تنظیموں سے ملاقات کرے گا جنہوں نے اسے تفصیلی اور تحریری تجاویز دی ہیں
لا کمیشن نے اپنے نوٹیفکیشن میں لوگوں سے پوچھا تھا کہ اس ملک میں یکساں سول کوڈ کی ضرورت ہے یا نہیں؟ اگر ضرورت ہے تو کیوں اور اگر نہیں ہے تو کیوں نہیں؟ کوئی بھی ہندوستانی شہری، سماجی مذہبی تنظیمیں، سیاسی جماعتیں اور ہر دوسرا شخص جو اس ملک کا شہری ہے، ان تجاویز کو تحریری طور پر لا کمیشن کو بھیج سکتا ہے۔
خیال رہے کہ ہندوستان کے آئین کے آرٹیکل 44 کے مطابق ریاستی پالیسی کے ہدایتی اصولوں کے تحت کہا گیا ہے کہ ریاست کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ ملک کے شہریوں کے لیے یکساں سول کوڈ بنائے اور اسے نافذ کرنے کی ہر ممکن کوشش کرے۔
ملک کے کئی شہریوں نے یو سی سی کے خلاف سپریم کورٹ سے بھی رجوع کیا تھا لیکن اس نے کہا تھا کہ پارلیمنٹ کو ملک میں قانون بنانے کا حق ہے اور وہ اس عمل میں مداخلت نہیں کر سکتی۔








