نئی دہلی:ملک سے غداری قانون پر لاء کمیشن نے اپنی رپورٹ پیش کر دی ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ ملک کی خود مختاری، اتحاد و سالمیت کے تحفظ کے لیے اس قانون کا رہنا ضروری اور لازمی ہے۔ لاء کمیشن نے وطن سے غداری کے جرم کو لے کر اپنی سفارش میں یہ بھی کہا ہے کہ غداری جیسے ملک مخالف جرم کے لیے سزا بڑھائی جائے۔ کمیشن نے اس قانون کے تحت کم از کم تین اور زائد از زائد سات سال قید کے ساتھ ہی جرمانہ لگانے کا التزام کیے جانے کی بھی تجویز پیش کی۔ لاء کمیشن کی اس رپورٹ پر کانگریس نے سخت اعتراض ظاہر کیا ہے اور مرکزی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ ملک سے غداری قانون کو لے کر حکومت نے لاء کمیشن سے رپورٹ مانگی تھی۔ اس پر لاء کمیشن نے اپنی رپورٹ حکومت کے حوالے کر دی ہے۔بھارت کے 22ویں لاء کمیشن کی سربراہی کرناٹک ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس ریتو راج اوستھی کر رہے ہیں۔
کمیشن نے مشاہدہ کیا کہ "آئی پی سی کی دفعہ 124A کی منسوخی محض اس بنیاد پر کہ کچھ ممالک نے ایسا کیا ہے، بنیادی طور پر ہندوستان میں موجود خوفناک زمینی حقیقت سے آنکھیں بند کر لیتا ہے”۔اپنی رپورٹ میں، لاء کمیشن نے کہا کہ "دفعہ 124A کو تعزیرات ہند میں برقرار رکھنے کی ضرورت ہے،
دریں اثنا سینئر وکیل اور کانگریس لیڈر ابھشیک منو سنگھوی نے ملک سے غداری قانون کو لے کر لاء کمیشن کی رپورٹ کو افسوسناک اور فکر انگیز ٹھہرایا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’’بی جے پی غداری کے قانون کا استعمال توڑ پھوڑ اور عدم اتفاق کو دبانے کی شکل میں کرتی ہے۔ اب بی جے پی حکومت نو آبادیاتی حکومت کے مقابلے میں زیادہ سخت اور خطرناک بننے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔‘‘







