سوڈان میں جاری خانہ جنگی کے دوران سابق صدر عمر البشیر کے دور حکومت کے عہدیدار خرطوم کی کوبر جیل سے نکل گئے ہیں۔ خود عمر البشیر اور ان کے نائب علاج کے لیے ہسپتال داخل ہیں۔
کوبر جیل میں قید سابق سوڈانی حکومت کے رہ نماؤں نے اعلان کیا ہے کہ وہ جیل سے رہا ہو گئے ہیں جس کے بعد وہ کسی نامعلوم "محفوظ ٹھکانے” پر ہیں۔ اب وہ اپنی حفاظت خود کریں گے، جب کہ سوڈان میں "العربیہ” اور "الحدث” ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ معزول صدر عمر البشیر اور ان کے نائب باقری حسن صالح خرطوم کے فوجی ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔
ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ نافع علی نافع، علی عثمان طحہ، عوض الجاز اور ابراہیم السنوسی بشیر حکومت کے ان رہ نماؤں میں شامل ہیں جنہوں نے کوبر جیل چھوڑی ہے۔
حال ہی میں معزول صدر عمر البشیر کو اس وقت ہیلی کاپٹر کسی نامعلوم مقام پر منتقل کیا گیا تھا جب فوج اور سریع الحرکت فورسز کے درمیان لڑائی شروع ہوئی تھی۔ بعد میں معلوم ہواکہ انہیں ام درمان کے علیا ہسپتال سے کسی دوسرے ٹھکانے پر منتقل کیا گیا ہے۔
عمر البشیراور ان کے 18 ساتھیوں کے خلاف 1989 کی بغاوت کے مقدمے میں فرد جرم عائد کرنے والی کمیٹی کے رکن المعز حضرت نے پریس بیانات میں کہا کہ "ایک ہیلی کاپٹر کے ذریعے عمر البشیر ،ان کے نائب بکری حسن صالح اور سابق وزیر دفاع عبدالرحیم محمد حسین کو نامعلوم مقام پر منتقل کیا گیاانہیں ایک مسلح گروپ کی طرف سے کوبر جیل پر دھاوے اور ایک ہزار قیدیوں کو چھڑائے جانے کے بعد کسی نامعلوم ٹھکانے پر منتقل کیا گیا ہے۔ ان میں اخوان المسلمون کے قیدی بھی شامل ہیں۔







