اندور :(ایجنسی)
اندور میں منعقد ہونے والا ایک پروگرام منسوخ کرنا پڑا ہے۔ تقریب میں ریٹائرڈ پروفیسر اور مصنف شمس الاسلام سمیت کئی لوگ شرکت کرنے والے تھے۔ یہ پر وگرام جس آڈیٹوریم میں ہونا تھا، اسے چلانے والے ٹیکسٹائل ڈیولپمنٹ ٹرسٹ نے ایک روز قبل تقریب کے منتظمین کو خط بھیجا، جس میں ان سے اس تقریب کو منسوخ کرنے کا کہا گیا۔ اس کے پیچھے حکومتی احکامات کا حوالہ دیا گیا ہے۔ یہ تقریب 26 مارچ کو ہونا تھی۔
کانگریس کے سینئر لیڈر ڈگ وجے سنگھ اور مصنف اشوک پانڈے بھی اس تقریب میں شرکت کرنے والے تھے۔
ٹیکسٹائل ڈیولپمنٹ ٹرسٹ کے سکریٹری ایم سی راوت نے این ڈی ٹی وی کو بتایا کہ انہیں انتظامیہ سے اطلاع ملی کہ یہاں پروگرام منعقد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ پوچھے جانے پر کہ تقریب کی اجازت منسوخ کرنے کے پیچھے کیا وجہ ہو سکتی ہے، راوت نے کہا، ’حکومت نے ہمیں اجازت نہ دینے کو کہا ہے۔‘ منتظمین نے جمعہ کو دوبارہ اس پروگرام کی اجازت طلب کی، لیکن آڈیٹوریم نے کہا کہ وہ کچھ ’ضروری وجوہات‘ کی بنا پر اس کی اجازت نہیں دے سکتے۔
تقسیم کرنے کی کوشش
پروفیسر شمس الاسلام ملک بھر میں کئی مقامات پر پروگرام کرتے رہےہیں اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ پر ان کے لکھے ہوئے کئی مضامین شائع ہو چکے ہیں۔ شمس الاسلام نے اس بارے میں این ڈی ٹی وی کو بتایا کہ کچھ لوگ ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان دراڑ پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے بھوپال میں 20 مقامات پر بھگوان کرشن کے بارے میں مولانا حسرت موہانی کا گیت پڑھا لیکن پھر کوئی مسئلہ نہیں ہوا۔ لیکن اب انہیں روکا جا رہا ہے۔
اس سے پہلے بھی مدھیہ پردیش میں اس طرح کے پروگراموں کو انتظامیہ نے روک دیا ہے۔ حکومتی احکامات اور ضروری وجوہات کا حوالہ دیتے ہوئے اس تقریب کے انعقاد کی اجازت منسوخ کیے جانے کے بعد سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ انتظامیہ اور حکومت اس پروگرام کو کیوں نہیں ہونے دینا چاہتی؟ آئینی دائرے میں رہ کر بات کرنے کا حق ہر کسی کو حاصل ہے لیکن کسی بھی پروگرام کو نہ ہونے دینا انتظامیہ اور حکومت کی نیت پر کئی سوال اٹھاتا ہے۔










