اردو
हिन्दी
جولائی 14, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

قانونی تحفظ عملاً کسی طور سماجی تحفظ کا ضامن نہیں

5 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ مضامین
A A
0
قانونی تحفظ عملاً کسی طور سماجی تحفظ کا ضامن نہیں
66
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

عبد السلام عاصم

’’قانونی تحفظ‘‘ کی حیثیت ایک دستاویز کی ہے اور’’سماجی تحفظ‘‘ سے محروم معاشرے میں ایسی کسی دستاویز کی عملاً کوئی حیثیت نہیں ہوتی۔یہ ایک غیر معلنہ منظر نامہ ہے جسے کوئی اور نہیں ہم خود تیار کرتے ہیں او ر ہمیں کو اِس سے فی زمانہ شکایت بھی رہتی ہے۔گویا ہم بھی یہ مانتے ہیں کہ فی الواقعی’’ عوام‘‘اور ’’خواص‘‘دونوں کو سماجی تحفظ چاہئے۔ بصورت دیگر کسی کی زندگی کسی بھی وقت خطرے میں پڑ سکتی ہے، خواہ وہ لاہور میں ٹک ٹاک والی لڑکی ہو یا مفرور صدر افغانستان اشرف غنی۔دونوں کو صرف قانونی تحفظ حاصل تھا ، سماجی نہیں۔

آئیے سوچیں ہمارے اور بعض ہمسایہ معاشرے میں ایسا کیوں ہے۔بظاہر اس کی وجہ علمی، تہذیبی اور اقتصادی خوش حالی کی کمی نظر آتی ہے جو بہ باطن سرے سے غلط نہیںلیکن انہی وجوہ کے درمیان اِس خرابی میںاُس ذہنی فتور کا زبردست عمل دخل ہے جو تغیر پذیر دنیا میں آج بھی دائمی اقدار کا تصورکی بات کرتا ہے۔یہ تصور ہم میں سے بہتوں کو یہ سمجھنے کی توفیق نہیں دیتا کہ معاشرتی، اقتصادی اور اخلاقی اقدار کسی بھی معاشرے، ملک اور وہاں کے سیاسی نظام کی پیداوارہوتی ہیں اورلوگ بہ کثرت ذہنی طور پراُن اقدار سے بندھے ہوتے ہیں۔

یہ مان کر چلنا کہ اقدار دائمی ہوتی ہیں اور ان پر ہی عمل ضروری ہے کسی بھی معاشرے کے ارتقائی عمل کو روک دیتا ہے۔ایسے جامداور غیر ترقی یافتہ معاشرے میں سماجی تحفظ کا سارا ذکر صرف آسمانی اور قانونی کتابوں میں ملتا ہے اور جس قانونی تحفظ کا ذکر کتابوں میں ہونا چاہئے وہ کسی بھی سانحے کے بعدہر کسی کی زبان پر چلا آتاہے۔ اصل میں معاشرہ اصلاحات کے رخ پر زبانی جمع خرچ سے نہیں بدلتا۔ نہ ہی ایک سے زیادہ قانون سازی اس میں ایسی کوئی تبدیلی لا سکتی ہے کہ پھر کسی کو کسی سے کوئی گلہ نہ رہے۔ اگر معاشرہ قانون سازی سے بدلتا توترقی پذیر اور نیم ترقی پذیر معاشرے میں حق تلفیاں اس قدر عام نہیں ہوتیںاور طبقاتی ڈھانچہ اس قدر خستہ نہیں ہوتا۔

قتل، آبرو ریزی، چوری، ڈکیتی، اغوا ، ظلم و زیادتی ، دہشت گردی اور ماب لنچنگ کی وارداتیں دُنیا میں کہیں بھی خواہ فی گھنٹہ کے حساب سے ہوں، یومیہ ہوں، فی ہفتہ یا فی مہینہ: ایسی وارداتیں ایک بدترین معاشرے کی عکاسی کرتی ہیں۔ ایسے معاشروں میں مبلغین و ذاکرین مختلف اجلاسوں میں سماجی خرابیوں کے خلاف کتنی ہی گلا پھاڑ تقریریں کیوں نہ کرتے پھریں،وہ ہمیشہ یہی نتیجہ اخذ کریں گے کہ معاشرتی بگاڑ اُن دائمی اقدار سے دوری کا نتیجہ ہے جن کے احیاء سے ہی ہم ایک بار پھر ترقی یافتہ قوم بن سکتے ہیں۔ایسے مقررین سامعین اور ناظرین پر یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ ماضی میں ایسا نہیں ہوتا تھا اور یہ سب موجودہ زمانے کی روش کا نتیجہ ہے۔اس طرح سننے اور دیکھنے والے پلک جھپکتے اُس ماضی میں کھو جاتے ہیں جو شاید پہلے بھی قصے کہانیوں سے زیادہ کہیں کوئی وجود نہیں رکھتا تھا۔

بر صغیر میں سماجی عدم تحفظ کے واقعات گنوائی جائیں تو صفحات کے صفحات سیاہ کرنے کے با وجود بیشتر عصری وارداتوں کا احاطہ نہیں کیا جا سکے گا۔ اخبارات کی سُر خیاں تقریباً روزانہ خون میں ڈوبی نظر آتی ہیں۔ سوشل میڈیا کے عہد میں ایک طرف جہاں ہر ظلم اور ہر زیادتی اگلے ہی لمحے بے نقاب ہو جاتی ہے وہیں اس انقلاب نے ایک ایسی بد نظمی بھی پھیلا رکھی ہے جس پر مقتدرین چاہتے ہوئے بھی قابو پانے سے قاصر ہیں۔

ہمارے یہاں سیکولرزم اوردھرم کے بے جا استحصال کی دوڑ آٹھویںدہائی میں ہے۔حکومت اور اپوزیشن دونوں ایک دوسرے کو برداشت کرنے کو تیار نہیں۔عوام کی بیداری دونوں کو کسی طورمطلوب نہیں۔محدود مفادات کے حامل سیاسی، سماجی اور مذہبی رہنماوں کیلئے یہ حالات اُن کے اپنے کاروبار کے لئے انتہائی ساز گار ہوتے ہیں۔ یہ رہنما دونوں طرف پائے جاتے ہیں ۔ اِن کا کام سیاسی آقاوں کی ہدایت کے مطابق جوش و جذبے کا کاروبار میں تیزی اور مندی لانا ہوتا ہے۔یہ اپنے مخالفین کے تعلق سے عوام کو کسی غیر موجود سازش کی بو سونگھنے پر بھی اس قدر مجبور کرتے ہیں کہ نفسیاتی طور پر وہ بو پھیل ہی جاتی ہے۔ورنہ کیا وجہ ہے کہ ایک طرف جہاںپارلیمنٹ کی کارروائی منافقانہ امداد باہمی سے چلنے نہیں دی گئی وہیں دوسری جانب حکومت اور اپوزیشن دونوں نے عوام کی نظروں میں ایک دوسرے کو اس کا ذمہ دار بنا کر پیش کر دیا۔ سوچنے والوں نے جہاں سر پیٹ لیا وہیں دونوں طرف ماننے اور منوانے والوں نے اپنی اپنی پیٹھیں خود ٹھونک لیں۔

موجودہ منظرنامے کو بدلنے کیلئے پھر کسی دیوانے کا خواب دیکھنے کی ضرورت نہیں جیسا کہ آمریت کے خلاف سوشلسٹوں اور کمیونسٹوں نے دکھایا تھا۔ یمینی اور یساری دونوں عقائدنظام فطرت سے بُری طرح متصادم ہیں ۔ فطرت کا نظام کسی جامد اصول پر نہیں چل سکتا۔ اسے رسی پر توازن کے ساتھ چلنے کا وہ انداز ہی راس آتا ہے جو علم اور ہنر دونوں سے آراستہ ہو۔جمہوریت اسی راستے کا نام ہے جس پر چلنے والے کے توازن کھوتے ہی سب کچھ بکھر کر رہ جاتا ہے۔اور پھر ایک مرحلے میں وہ بھی بلیم گیم کا حصہ بن جاتا ہے۔

اس منظر نامے کوبدلنے کیلئے ہمیں اِس تفہیم سے انتہائی ایمانداری سے گزرنا ہو گا کہ جمہوریت میں جہاںمتعین آداب کے ساتھ سوچنے، سمجھنے اور اظہار کی آزادی ہوتی ہے وہیںآمریت میں سننے، ماننے اور اظہار کے نام پر ہاں میں ہاں ملانے تک محدود رہنے کی تاکید کی جاتی ہے۔ دونوںپر جب تک بالترتیب تفہیم پسندانہ اور مقلدانہ عمل جاری رہتا ہے، اُس وقت تک ماحول پُر امن رہتا ہے۔ ایسے میں اچھی یا بُری کوئی بھی تبدیلی اُس وقت آتی ہے جب جمہوری ماحول کو بگاڑنے والے عناصرکو جمہوری اداروں میں محفوظ پناہ گاہیں ملنا شروع ہو جاتی ہیں یا آمریت کے خلاف فطری بیزاری کا جذبہ سب کچھ الٹ پلٹ کر رکھ دینے کے عہد کی دہلیز پار کر لیتاہے۔

یہ تاریخِ انسانی کا ایک ایسا باب ہے جس کا بے باک، بے لاگ اور بے خوف مطالعہ ہی کسی محقق کواپنے فرض کی ادائیگی میں ایماندار رکھ سکتا ہے۔بصورت دیگر وہ اپنے کسی بھی نظریاتی/فکری/تہذیبی یاانسلاکی دباو کے نتیجے میں از خودایک ایسے سمجھوتے کی طرف بڑھنے لگتا ہے جدھر آدابِ معاشرت کے مسلط کردہ پہلوں کو سمجھنا اور کسی اعلان کے بغیر اس سے احتراز کرنے کی درکارصلاحیت اُس کے اندر معدوم ہونے لگتی ہے۔ اس طرح ایک دن وہ اس قدر کندیشنڈ ہو چکا ہوتا ہے کہ اُسے اپنی ہر پسند ’’حق‘‘ نظر آنے لگتی ہے اوروہ ہر اُس سچ کو باطل سمجھنے لگتا ہے جس سے اُس کے اخذ کردہ نتائج میل نہیں کھاتے۔

دنیا میں روز ازل سے ماننے اور جاننے کے دو الگ الگ سلسلے جاری ہیں۔ماننے والے عقائد کی سوچ کے ساتھ جیتے اور مرتے ہیں اور جاننے والے کسی جامد خیال پر متحرک اختلاف رائے کو ترجیح دیتے ہیں۔باوجودیکہ علمی ماہرین غیر سائنسی عقائدکی نجی حیثیت پر اعتراض نہیں کرتے۔وہ استدلال کے بجائے تفہیم کی بنیاد پر یہ بھی نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ عقائد اور اَن دیکھا یقین اپنے آپ میں اُس وقت تک غلط نہیں جب تک اُس میں کسی روایتی ’’پسند‘‘ اور ’’ناپسند‘‘ کو بالترتیب ’’حق‘‘ و ’’باطل‘‘ کا درجہ نہیں دے دیا جاتا۔ اہل علم کا کہنا ہے کہ کسی کی موت کے صدمے پر قابو پانے کی کوشش میں راضی بہ رضا رہنے کا عقیدہ آج بھی موثرہے، لیکن ساتھ ہی یہ بھی سچ ہے کہ کسی کی بیمار ذہنیت کو دعاوں سے نہیں بدلا جا سکتا۔ اس کاصرف سائنسی علاج ممکن ہے۔ اِن دونوں باتوں کو سمجھنے کے لئے لازمی ہے کہ نظریاتی سوچ اور حقیقی تعلیم کو ہرگز ہم پلہ قرا ر نہ دیا جائے کیونکہ دونوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔

(یہ مضمون نگار کے ذاتی خیالات ہیں)

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

US Iran War Strategic Defeat News
مضامین

امریکہ – اسرائیل – ایران جنگ میں امریکہ کی اسٹریٹجک ہار پہلے سے طے

23 مارچ
Hormuz Strait Iran Speech
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
passport-not-proof-of- indian citizenship

پاسپورٹ شہریت کا حتمی ثبوت نہیں! جانیے پھر شہریت کا اصل اور قانونی ثبوت کیا ہے؟

جون 25, 2026
اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

مارچ 23, 2021
معروف عالمِ دین مولانا سلمان حسینی ندوی انتقال کر گئے

معروف عالمِ دین مولانا سلمان حسینی ندوی دنیا سے رخصت ہو گئے

جون 29, 2026
وینزویلا زلزلہ تباہی

وینزویلا میں قیامت خیز زلزلہ: 32 افراد ہلاک، 700 سے زائد زخمی، کئی عمارتیں زمین بوس

جون 25, 2026
اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

Easy SIR Form Filing

بھارت میں مسلم ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے نکالے جا رہے ہیں؟ UN کی رپورٹ میں بھارت کے SIR عمل پر سوالات

ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

یوگی بولے : روڈ پر نماز ، لا ؤڈ اسپیکر بند،سلاٹر ہاؤس پر تالے

‘جو آج آستھا کی بات کرتے ہیں، انہوں نے ہنومان گڑھی میں نماز پڑھوائی تھی’، ایودھیا میں یوگی آدتیہ ناتھ کا بڑا حملہ

اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

جولائی 13, 2026
Easy SIR Form Filing

بھارت میں مسلم ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے نکالے جا رہے ہیں؟ UN کی رپورٹ میں بھارت کے SIR عمل پر سوالات

جولائی 12, 2026
ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

جولائی 10, 2026
یوگی بولے : روڈ پر نماز ، لا ؤڈ اسپیکر بند،سلاٹر ہاؤس پر تالے

‘جو آج آستھا کی بات کرتے ہیں، انہوں نے ہنومان گڑھی میں نماز پڑھوائی تھی’، ایودھیا میں یوگی آدتیہ ناتھ کا بڑا حملہ

جولائی 10, 2026

حالیہ خبریں

اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

جولائی 13, 2026
Easy SIR Form Filing

بھارت میں مسلم ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے نکالے جا رہے ہیں؟ UN کی رپورٹ میں بھارت کے SIR عمل پر سوالات

جولائی 12, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN