اردو
हिन्दी
اگست 22, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

بنگلہ دیش کا سبق:نئی نسل کے تیوروں کو نظر انداز مت کیجیے

2 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ خبریں
A A
0
168
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

تحریر:اجمل جامی
آرمی چیف وقار الزمان حسینہ واجد کے رشتہ دار ہیں، ان کی اہلیہ معزول و مفرور وزیراعظم کی رشتے میں کزن لگتی ہیں۔ جنرل وقار کے سسر جنرل مستفیض بنگلہ بندھو یعنی شیخ مجیب کے عزیز تھے۔
وقار الزمان کو خود اپنے ہاتھوں سے محترمہ نے رواں برس جون میں ملٹری چیف تعینات کیا۔ آس پاس اہم عہدوں پر بھی عزیز و اقارب کی فوج ظفر موج تھی۔ مسلسل تیسری بار وزیراعظم منتخب ہوئیں، پہلے بھی یہ 1996 سے 2001 تک ملک پر راج کر چکیں، یوں یہ تقریباً بیس برس بطور وزیراعظم بنگلہ دیش کی طویل ترین دورانئے کے لیے راج کرنے والی واحد شخصیت ہیں۔
بنگلہ دیش عوامی پارٹی کی خالدہ ضیا ہوں یا جماعت اسلامی، اپوزیشن نام کی گنجائش صرف کاغذوں تک محدود کر دی گئی تھی۔ بنگلہ دیش عملی طور پر سنگل پارٹی سٹیٹ بنتا جا رہا تھا، ان کے دور حکومت میں اقتصادی اشاریے بہتر ضرور ہوئے، فوجی اور عدالتی حمایت ہم قدم رہی، ، لیکن پھر ایسا کیا ہوا کہ’ آئرن لیڈی‘ کو چند ایک رنگین سوٹ کیسز کے ساتھ فرار ہونا پڑا
اس سوال کا جواب اب کئی ایک زاویوں سے تلاش کیا جا رہا ہے، لیکن سامنے کی بات یہی ہے کہ سوشل میڈیا کے اس دور میں یوتھ کی مانگ اور یوتھ کی سمجھ بوجھ ماضی کی نسبت کئی گنا بڑھ چکی ہے۔ دنیا بھر میں ریاستی توازن از سر نو تشکیل کا متقاضی ہوتا جا رہا ہے۔ اقربا پروری، گنے چنے خاندانوں کی حکمرانی، شاہی طرز سیاست، مفادات کی سرکار اور ایلیٹ کیپچر اب گلے کی ہڈی بنتا جا رہا ہے۔ اپوزیشن نامی شے جب عملی طور پر ختم کر کے سنگل پارٹی سسٹم زور زبردستی متعارف کروایا جائے تو پھر اپوزیشن حلق سے پیدا ہو کر خلق میں سمو جا تی ہے۔
کوٹہ سسٹم بنگلہ دیش کا اہم ایک مدعا رہا ہے، رواں برس جولائی میں طالب علموں کی جانب سے سرکاری ملازمتوں کے لیے کوٹہ سسٹم کے خاتمے کی مانگ کی جا رہی تھی۔ 1971 میں فوجیوں کے لیے ان کی قربانیوں کے اعتراف میں ملازمتوں میں کوٹہ رکھا گیا تھا، اس مدعے پر کئی بار ترمیم بھی کی گئی۔ سول سروز کی 30 فیصد ملازمتیں ان فوجیوں کے اہل خانہ کے لیے مختص تھیں۔ مزید 26 فیصد خواتین، پسماندہ اضلاع، کمیونیٹیز اور کسی حد تک معذور افراد کیلئے مختص تھیں، یعنی صرف 44 فیصد سرکاری ملازمتیں اوپن میرٹ پر تھیں۔  
یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل طالب علم مایوسی کے عالم میں ان 44 فیصد سیٹوں پر قسمت آزمائی کیا کرتے تھے، طالب علموں کی تعداد میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا تھا اور سرکاری نوکری کی گنجائش اسی حساب سے سکڑ رہی تھی۔
ایک اندازے کے مطابق 30 لاکھ سے زائد  پڑھے لکھے نوجوان اسی وجہ سے بے روزگاری کا شکار ہیں۔ اسی مطالبے کی مانگ میں پہلے بھی 2013 سے 2018 تک مظاہرے ہوتے رہے، شیخ حسینہ نے یہ کوٹہ ایک وقت میں ختم بھی کیا لیکن پھر بنگلہ ہائیکورٹ نے جب اسے حالیہ بحران سے پہلے بحال کیا تو انہی طلبہ کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا۔  
گو کہ سپریم کورٹ نے اس کیس میں خاصا ریلیف دیتے ہوئے کوٹہ سات فیصد تک مختص کر دیا، لیکن اس بیچ طالبعلم بحیثت مجموعی حسینہ سرکار کے جبری ہتھکنڈوں کے خلاف صف آرا ہو چکے تھے۔ انہی مظاہرین کو دہشت گرد اور رضا کار کا نام دیا گیا۔ رضا کار 1971 میں ان افراد کو کہا جاتا تھا جو پاکستان کے حامی تھے۔ نوجوانوں کا غم و غصہ تھا کہ رکنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔
کیا وہ محض کوٹہ سسٹم کے خاتمے کے لیے ہی اس قدر مشتعل تھے؟ رضا کار یا دہشت گرد کہلوائے جانے پر بپھر رہے تھے؟ یا بنیادی مطالبے کی مانگ کے پیچھے سالہا سال کی محرومی، گھٹن اور ایلیٹ کیپچر کی چھاپ انہیں اس قدر دیوانہ وار مر جانے تک تیار کر رہی تھی؟  
جی ہاں! کبھی طالبعلم محض پمفلٹس کے ذریعے کتابوں کے ذریعے، رسالوں کے ذریعے، اساتذہ کے ذریعے، سٹوڈنٹس لیڈرز کے ذریعے، اکا دکا سرکاری و غیر سرکاری ٹی وی چینلز کے ذریعے یا دستیاب اخبارات کے ذریعے معلومات حاصل کیا کرتے تھے۔ سیاسی و مذہبی رہنماؤں کی پر جوش تقاریر کے قائل ہوا کرتے تھے، انہی کے ارشادات پر بحث کیا کرتے تھے۔
اب مگر زمانہ بدل چکا، معلومات کی ترسیل اور دنیا بھر کی جانکاری فنگر ٹپس پر ہے۔ کیا صحیح ہے کیا غلط؟ سیاسی و مذہبی رہنما نہیں، اساتذہ نہیں، پرانے ابلاغ کے ذرائع نہیں، جدید نسل خود طے کرنے کو پر تول رہی ہے۔ ایلیٹ کیپچر کی چھاپ اس نئی نسل کے لیے طعنہ بنتی جا رہی ہے۔ اس چھاپ سے یہ نسل نفرت کرتی ہے۔ اب یہ نسل ریاستی بندوبست میں از سر نو توازن چاہتی ہے۔ ان کی نمائندگی اب ایلیٹ خاندانوں کے ذریعے ناممکن ہوتی جا رہی ہے۔
انہی کو روکنے کے لیے انٹرنیٹ بند کیا گیا، ایمرجنسی لگی، کرفیوکا نفاذ کیا گیا اور پھر کیا ہوا؟ پابندیاں عائد کر کے، ذرائع ابلاغ کو کنٹرول کر کے، حسینہ سرکار باقی رہ سکی؟ جواب ہے نہیں! دیر سویر وقار الزمان کو معاملات سیاستدانوں کے حوالے کرنا ہوں گے کیونکہ بپھرنا تو بند ہوا ہے مگر بہنا نہیں۔(بشکریہ اردو نیوز)
(یہ تجزیہ نگار کے ذاتی خیالات ہیں )

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل
خبریں

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

22 جولائی
اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل
خبریں

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

13 جولائی
Easy SIR Form Filing
خبریں

بھارت میں مسلم ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے نکالے جا رہے ہیں؟ UN کی رپورٹ میں بھارت کے SIR عمل پر سوالات

12 جولائی
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
حافظ قرآن کی عظمت اور ان کا مقام و مرتبہ

حافظ قرآن کی عظمت اور ان کا مقام و مرتبہ

مارچ 31, 2022

موجودہ دور میں مسلمان دل ودماغ جیتنے کی مہم چھیڑیں:امیر جماعت

فروری 28, 2023
اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

مارچ 23, 2021
جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

Easy SIR Form Filing

بھارت میں مسلم ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے نکالے جا رہے ہیں؟ UN کی رپورٹ میں بھارت کے SIR عمل پر سوالات

ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جولائی 22, 2026
اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

جولائی 13, 2026
Easy SIR Form Filing

بھارت میں مسلم ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے نکالے جا رہے ہیں؟ UN کی رپورٹ میں بھارت کے SIR عمل پر سوالات

جولائی 12, 2026
ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

جولائی 10, 2026

حالیہ خبریں

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جولائی 22, 2026
اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

جولائی 13, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN