لندن کی ایک عدالت نے کالعدم دہشتگرد گرد ’المہاجرون‘ کے سربراہ اور انتہا پسند مبلغ انجم چوہدری کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔عدالت نے گذشتہ ہفتے انجم چوہدری کو’المہاجرون‘ کی سربراہی کرنے کا مرتکب پایا تھا۔
فیصلہ سننے کے بعد 57 برس کے انجم چوہدری صدمے کا شکار دکھائی دیے کیونکہ عدالت نے انھیں کم از کم 28 برس کی سزا سنائی ہے۔
واضح رہے کہ انجم چوہدری اپنی کالعدم شدت پسند تنظیم المہاجرون کے بارے میں طویل عرصے سے جاری بین الاقوامی خفیہ تحقیقات کے بعد پکڑے گئے ہیں جس میں برطانوی اداروں کے علاوہ امریکی اور کینیڈین افسران نے بھی حصہ لیا تھاکہا جاتا ہے کہ تقریباً 25 سال تک انجم چوہدری برطانیہ میں شدت پسند نظریات کو فروغ دیتے آئے ہیں۔
1990 کی دہائی کے آخر میں انجم چوہدری نے شام سے تعلق رکھنے والے عالم عمر بکری محمد کی شاگردی اختیار کی جنھوں نے ’المہاجرون‘ کی بنیاد رکھی تھی۔
انجم چوہدری اس گروپ کے دوسرے اہم کمانڈر بن گئے تھے تاہم 2010 تک برطانوی حکومت نے اس تنظیم کے ارکان کے دہشتگرد حملوں سے روابط ثابت ہونے کے الزام میں اس گروپ اور اس کی ذیلی تنظیموں پر پابندی لگا دی۔
مقدمے کی سماعت کے دوران بتایا گیا کہ سنہ 2014 میں عمر بکری محمد کو لبنان میں جیل بھیجے جانے کے بعد انجم چودھری نے تنظیم کے ’نگران‘ کا کردار سنبھالا اور ساتھ ہی ’مذہب کا ایک بگڑا ہوا نظریہ‘ پھیلانے کا کام جاری رکھا۔
یہ اس وقت کی بات ہے جب شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے شام اور عراق پر دھاوا بول دیا تھا۔ دو سال بعد انجم چوہدری کو اپنے ساتھیوں کو نام نہاد دولتِ اسلامیہ کی حمایت پر اکسانے سزا ہو گئی۔
انھیں 2018 میں رہا کر دیا گیا تاہم ان پر 2021 تک عوامی اجتماعات میں بات کرنے پر پابندی تھی۔
انجم چودھری پر 2014 سے لے کر جولائی 2023 کے آخر تکالمہاجرون کی قیادت کا الزام لگایا گیا لیکن اس مقدمے کا تعلق 2021 میں ان کی سزا کی مدت ختم ہونے کے بعد کے واقعات سے ہے۔










