لکھنؤ :(ایجنسی)
یوپی کے کاشی میں گیان واپی مسجد کمپلیکس کے سروے اور متھرا میں کرشنا جنم بھومی – شاہی عید گاہ مسجد کا معاملہ ابھی چل ہی رہا ہے کہ لکھنؤ میں ٹیلے والی مسجد کو لے کر بھی تنازع گرما گیا ہے ۔ بتادیں کہ ہندوتوا تنظیم نے لکھنؤ میں تاریخی ’ ٹیلے والی مسجد ‘ پر اپنادعویٰ پیش کیا ہے۔ ان کاکہنا ہے کہ اصل میں یہ ٹیلےوالی مسجد نہیں بلکہ ’ لکشمن ٹیلہ ‘ تھا۔
بتا دیں کہ ہندو تنظیموں نے ٹیلے والی مسجد کے سامنے مورتی لگانے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ہنومان چالیسیا کا پاٹھ کرنے اور پد یاترا کرنے کی بھی بات کہی۔ حالانکہ پولیس نے مسجد کی طرف مارچ پر پابندی لگا دی ہے اور ہندو مہاسبھا کے ریاستی صدر رشی ترویدی کو حراست میں لے لیا ہے۔
اسی دوران مسجد کے امام سید فضل المنان نے خبردار کیا تھا کہ مسلم فریق اس پد یاترا کی مخالفت کرے گا۔ بتا دیں کہ رشی ترویدی کی گرفتاری کے بعد ہندو مہاسبھا کے سینکڑوں کارکنوں نے پولیس اسٹیشن کا گھیراؤ کیا اور دویدی کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔
ایک سینئر پولیس افسر نے بتایا، ’لکشمن ٹیلہ مکتی سنکلپ یاترا پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ مسجد کی طرف جانے والی سڑکوں پر سیکورٹی اہلکار تعینات کیے گئے تھے۔‘ بتا دیں کہ ہندو مہاسبھا نے شہر کے مختلف حصوں میں 1090 چوراہے سے الگ الگ حصوں میں لکشمن ٹیلہ مکتی یاترا نکالنے کا اعلان کیا تھا۔
رشی ترویدی نے کہا تھا کہ جس طرح کاشی میں گیان واپی اور متھرا کی عیدگاہ کو مسلم حملہ آوروں کے حملے کے بعد مندروں سے مسجدوں میں تبدیل کر دیا گیا تھا، اسی طرح لکھنؤ میں لکشمن ٹیلہ کو بھی ٹیلے والی مسجد میں تبدیل کر دیا گیا تھا۔
دوسری طرف، اودھ کے مورخین کا کہنا ہے کہ ’ٹیلے والی مسجد‘ کو 16ویں صدی میں بنائی گئی تھی۔ یہ مشہور امام باڑہ کے قریب گومتی ندی کے کنارے واقع ہے۔ اس بڑی مسجد اور اس کے آس پاس کے لان میں تقریباً ایک لاکھ لوگ نماز پڑھ سکتے ہیں۔









