
نئی دہلی: مدھیہ پردیش کے سدھی ضلع میں قبائلی شخص پر پیشاب کرنے کی ویڈیو کے بعد ایک اور ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوا ہے۔ اس ویڈیو میں نوجوانوں کے ایک گروپ کو دو قبائلی لڑکوں کے ساتھ وحشیانہ حملہ اور بدسلوکی کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
دی ہندو کی ایک رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ جمعہ (7 جولائی) کو اندور کے راؤ علاقے میں پیش آیا۔ پولیس نے بتایا کہ دو قبائلی بھائیوں کا قریبی بستی کے کچھ سیکورٹی گارڈز سے اس وقت جھگڑا ہوا جب ان کی موٹر سائیکل شدید بارش کی وجہ سے پھسل گئی۔ ایک سینئر پولیس افسر نے بتایا کہ اس کے بعد سیکورٹی اہلکار دونوں کو گارڈ روم میں لے گئے اور بے رحمانہ پٹائی کی-
انہوں نے کہا کہ تعزیرات ہند (آئی پی سی)، جوینائل جسٹس ایکٹ اور درج فہرست ذاتوں اور قبائل (مظالم کی روک تھام) ایکٹ 1989 کی متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا –
واقعہ سے متعلق مبینہ ویڈیومیں متاثرہ لڑکے التجا کرتے ہوئے نظر آتے ہیں جو انہیں تھپڑ مارتے ہیں، ڈنڈوں سے ان پر حملہ کرتے ہیں۔ویڈیومیں گالیاں دیتے ہوئے بھی سنا جاسکتا ہے-پولیس نے بتایا کہ مرکزی ملزم سمیت چودھری کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور دو دیگر جے پال سنگھ بگھیل اور پریم پرمار کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔
اپوزیشن کانگریس نے حکمراں بی جے پی حکومت کو ریاست میں قبائلیوں پر بڑھتے ہوئے مظالم کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔






