بھوپال(ایجنسی)
مدھیہ پردیش کےنیمچ ضلع کے جاود تحصیل میں دو درجن نقاب پوش افرادنے مبینہ طور پر ایک درگاہ پر دھماکہ خیز مواد سے حملہ کرکے اسے نقصان پہنچایا اور اس کے خادم اور زائرین کی لاٹھی ڈنڈوں سے پٹائی کی۔ایک پولیس افسرنے بتایا کہ حملہ آور موقع پر ایک پرچہ بھی چھوڑ گئے، جس میں کہا گیا ہے کہ متعلقہ درگاہ میں ہندوؤں کا مذہب تبدیل کراکر مسلمان بنایا جاتا ہے، جو سناتن دھرم کے خلاف ہے۔
دی وائر کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پولیس نے بتایا کہ یہ حملہ ہفتہکی شب تقریباً11 بجے سے اتوار کی صبح تین بجے تک چار گھنٹے چلا۔ایس پی سورج کمار ورما نے بتایا کہ زخمی کی پہچان عبدالرزاق کےطور پر ہوئی ہے جس کو اسپتال میں بھرتی کرایا گیا ہے، جبکہ اس درگاہ کے خادم نور بابا کو معمولی چوٹیں آئی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ نور بابا نے پولیس میں شکایت درج کرائی ہے جس کے بعد آئی پی سی کےتحت دنگا کرنے،مذہبی مقام کو نقصان پہنچانےجیسی دفعات کےتحت 24نامعلوم لوگوں کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔
افسر کےمطابق، ایسا لگتا ہے کہ کچھ دھماکہ خیز مواد کا استعمال کرکے درگاہ کو نقصان پہنچایا گیا ہے۔استعمال کیے گئے دھماکہ خیز مواد کے بارے میں پوچھے جانے پر ایس پی نے کہا کہ یہ فورنسک جانچ کے بعد پتہ چل پائےگا۔انہوں نے بتایا کہ یہ مذہبی مقام نیمچ ضلع میں رتن گڑھ پولیس تھانہ حلقہ کے تحت جنگلی علاقےمیں واقع ہے اور یہ سنسان علاقہ ہے۔
ورما نے کہا کہ یہ حملہ ہفتہکی رات 11 بجے سے اتوار کی صبح تین بجے تک چار گھنٹے چلا۔ پرچے کے بارے میں پوچھے جانے پر انہوں نے کہا کہ ہو سکتا ہے کہ جانچ افسروں کو گمراہ کرنے اور واقعہ کو الگ موڑ دینے کے لیے اسے چھوڑا گیا ہو، حالانکہ ورما نے کہا کہ وہ ملزمین کی پہچان کے بارے میں کچھ بھی کہنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں، کیونکہ ابھی جانچ چل رہی ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ درگاہ کو صرف پانچ فیصد نقصان ہوا ہے، لیکن یہ بھی قبول کیا کہ حملے سے اس کے ستون کمزور ہو گئے ہیں۔
ورما نے ان خبروں کی تردید کی کہ حملہ آور تلوار اور بھالا لےکر پہنچے تھے۔ انہوں نے کہا کہ حملہ آوروں کے پاس لاٹھیاں تھیں۔اس بیچ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو میں اس درگاہ کا خادم اور زائرین اور اس کی بیوی واقعہ کے بارے میں بتاتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ اس واقعہ کے خلاف مسلمانوں نے جلوس نکالا۔ انہوں نے حملہ آوروں کے خلاف سخت کارروائی کی مانگ کو لےکر پولیس افسروں کو میمورینڈم بھی سونپا۔










