میرٹھ: (خاص خبر)محکمہ اقلیتی بہبود کے کئی افسران اور مدرسوں کے مہتمم اور منیجروں نے ساز باز کرکے اقلیتی طلبہ کی کروڑوں کی اسکالر شپ ڈکار لی امر اجالا میں اس حوالے سے ایک انکشافاتی رپورٹ شائع ہوئ ہے اسے سازش یا بدنام کرنے کی کوشش کہہ کر نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ۔آج بھی یہ کھیل جاری ہے ۔خبر کے مطابق EOW نے کارروائی شروع کر دی ہے۔ ملزمان کے نام سامنے آ رہے ہیں۔
پولیس اور ای او ڈبلیو اسکالرشپ اسکینڈل میں نامزد ملزمان کے اثاثوں کو کھنگالنے میں مصروف ہے۔ ای او ڈبلیو میرٹھ نے اس وقت کے ضلع اقلیتی بہبود افسر سمن گوتم کی تلاش میں چھاپہ ماری کا دعویٰ کیا ہے۔ اس کا یہ بھی کہنا ہے کہ 92 مقدمات میں 180 نامزد ملزمان مفرور ہیں۔ ان میں محکمہ اقلیتی بہبود کے کئی سابق افسران بھی شامل ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ سمن گوتم، سنجے تیاگی، اکرام الدین، ریشما، سلیم، خورشیدہ، یاسین، ذہین، دلشاد، اسحاق انصاری، سید ظفر، مہندی حسن، خورشید احمد، نور عالم، آشا شرما، غفران عالم، راحت ، اشتیاق رانا، محمد تحسین سمیت کئ لوگ نامزد ہیں۔
‘مدرسے قائم کرکے گھپلہ کیا گیا’۔الخدمت فاؤنڈیشن کے صدر تنصیر احمد نے 2012 میں اس وقت کے ڈی ایم وکاس گوتھلوال سے محکمہ اقلیتی بہبود اور مدرسہ کی جانب سے مدرسوں کے طلباء کے پیسے ہڑپ کرنے کی شکایت کی تھی۔ معاملہ حکومتی سطح تک پہنچا۔ سول لائنز تھانے میں مقدمہ درج کر لیا گیا۔ ملزموں نے پولیس کے ساتھ سازباز کرکے 2012 میں اس معاملے میں ایف آر درج کرائی۔ شکایت کے بعد ایف آر کو منسوخ کر کے مقدمے کی دوبارہ تفتیش کی گئی۔ اس کے بعد کیس کی تحقیقات EOW کو سونپ دی گئی۔ ’96 مکاتب و مدارس کے نام سامنے آگئے’۔
امراجالا کے مطابق ای او ڈبلیو کی تحقیقات میں اقلیتی طلبہ کے نام پر اسکالرشپ ہڑپ کرنے والے 96 اسکولوں اور مدارس کے مہتمم اور منیجرز کے نام سامنے آئے تھے۔ معاملے کو دبانے کی ہر ممکن کوشش کی گئی۔ ریاست میں یوگی حکومت کی تشکیل کے بعد اس کی تفتیش پھر شروع ہوگئی۔ تحقیقات کے دوران 250 لوگوں کے نام سامنے آئے۔
‘ہرہ گاؤں کے دین محمد کے چار مدرسے تھے’۔الزام ہے کہ سرور پور تھانہ علاقہ کے ہرہ گاؤں کے رہنے والے دین محمد نے چار مدارس بتا کر تقریباً 41 لاکھ روپے کی اسکالرشپ کا غبن کیا۔ اس کے علاوہ انڈین ہائی اسکول، مدرسہ انڈین ہائی اسکول، مدرسہ انڈین ہائی اسکول للبنات، مدرسہ جامعہ عبدالحمید میں جسد سلطان پور گاؤں میں اسکالرشپ گھوٹالہ ہوا ہے۔
‘ایک ہی عمارت میں تسلیم شدہ چھ ادارے’ ۔تحقیقات سے معلوم ہوا کہ اسی عمارت میں چھ اداروں گڈون پبلک اسکول، گڈون جونیئر ہائی اسکول، گڈون انٹر کالج، مدرسہ گڈون، گڈون عربک کالج اور مدرسہ گڈون للبنات کے نام کرکے اسکالرشپ کی رقم لی گئی۔ مدارس کی چھان بین شروع ہوئی تو اس عمارت سے انٹر کالج کا بورڈ ہٹا کر مدرسے کا بورڈ لگا دیا گیا۔








