نئی دہلی:ایکسائز پالیسی کے مبینہ معاملے میں گزشتہ 17 ماہ سے جیل میں بند دہلی کے سابق نائب وزیر اعلیٰ منیش سسودیا کو سپریم کورٹ سے بڑی راحت ملی ہے۔ سپریم کورٹ نے انہیں ایکسائز کیس میں ضمانت دے دی ہے۔ آیہ ضمانت ای ڈی اور سی بی آئی دونوں معاملوں میں ملی ہے -سپریم کورٹ نے تین دن پہلے اس معاملے میں اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔
سپریم کورٹ نے آج اپنا فیصلہ سناتے ہوئے کہا، ‘ہائی کورٹ اور ٹرائل کورٹ ضمانت کے معاملے میں محفوظ کھیل کھیل رہے ہیں۔ سزا کے طور پر ضمانت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ عدالتیں سمجھ لیں کہ ضمانت ایک اصول ہے اور جیل استثناء ہے۔
جسٹس بی آر گوائی اور جسٹس کے وی وشواناتھن کی سپریم کورٹ بنچ نے 6 اگست کو سسودیا کی ضمانت کی درخواست پر اپنا فیصلہ محفوظ رکھا تھا۔ جمعہ کو اس پر فیصلہ سناتے ہوئے جسٹس گوائی نے کہا کہ 17 ماہ کی طویل قید اور مقدمے کی سماعت شروع نہ ہونے کی وجہ سے انہیں ٹرائل کے حق سے محروم کر دیا گیا ہے۔
اس دوران سپریم کورٹ نے یہ بھی کہا کہ 400 سے زائد گواہوں کے پیش نظر ٹرائل جلد مکمل ہونے کا کوئی امکان نہیں ہے۔
منیش سسودیا کو ضمانت دیتے ہوئے سپریم کورٹ نے کہا کہ وہ سماج کے قابل احترام شخص ہیں اور ان کے فرار ہونے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس معاملے میں زیادہ تر شواہد اکٹھے کر لیے گئے ہیں، اس لیے اس میں چھیڑ چھاڑ کا کوئی امکان نہیں ہے۔ تاہم، گواہوں کو متاثر کرنے یا دھمکانے کی صورت میں ان پر شرائط عائد کی جا سکتی ہیں۔
٭ تین شرائط پر ضمانت ملی
سپریم کورٹ نے تین شرائط پر سسودیا کو ضمانت دی ہے۔ پہلا یہ کہ 10 لاکھ روپے کا بانڈ ادا کرنا پڑے گا۔ اس کے علاوہ انہیں دو ضمانتیں بھی پیش کرنی ہوں گی۔ جبکہ تیسری شرط یہ ہے کہ وہ پاسپورٹ سرینڈر کریں گے
سپریم کورٹ نے اے ایس جی کی درخواست قبول نہیں کی۔
اس دوران ایڈیشنل سالیسٹر جنرل ایس وی راجو نے آج سپریم کورٹ سے منیش سسودیا کو دہلی کے وزیر اعلیٰ کے دفتر میں داخل ہونے سے روکنے کی درخواست کی۔ لیکن سپریم کورٹ بنچ نے کہا کہ ہم اس کی اجازت نہیں دے سکتے۔ آزادی کی وجہ ہر روز اہمیت رکھتی ہے۔










