بریلی: اتحاد ملت کونسل (آئی ایم سی) نے مذہب کی تبدیلی کے حوالے سے بڑا دعویٰ کیا ہے۔
خبررساں ایجنسی آئی اے این ایس کے حوالہ سے انڈیا ٹی وی نے بتایا کہ آئی ایم سی کے سربراہ اور معروف مسلم لیڈر مولانا توقیر رضا خاں نے کہا کہ ایسے بہت سے محبت کرنے والے جوڑے ان کے ساتھ رابطے میں ہیں، جو اسلام قبول کرکے اپنی پسند کے مسلمان لڑکے اور لڑکی سے شادی کرنا چاہتے ہیں۔ مولانا توقیر نے بتایا کہ پچھلے دو سال سے ہم نے یہ پابندی لگا رکھی تھی کہ اگر کوئی لالچ یا محبت کی وجہ سے اسلام قبول کرنا چاہے تو اس پر کوئی توجہ نہیں دی جائے گی۔ لیکن اب بہت سے ایسے لڑکے اور لڑکیاں ہیں جو لیو ان ریلیشن شپ میں رہ رہے ہیں۔ ہندومت، اسلام یا کسی اور مذہب میں لڑکوں اور لڑکیوں کو شادی سے پہلے ایک دوسرے کے ساتھ رہنے کی اجازت نہیں ہے، لیکن اس حوالے سے قانون میں کوئی
8لڑکے اور 15 لڑکیاں اسلام قبول کرنا چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت میرے پاس 23 درخواستیں ہیں، جن میں سے 8 لڑکے اور 15 لڑکیاں ہیں، جو اسلام قبول کرنا چاہتے ہیں۔ یہ لوگ تقریباً مذہب تبدیل کر چکے ہیں، پہلے ہی باہمی رضامندی سے اپنا راستہ طے کر چکے ہیں۔ مولانا توقیر نے کہا کہ 21 جولائی کو مذہب کی تبدیلی اور ایسے پانچ لڑکوں اور لڑکیوں کی اجتماعی شادی کے پروگرام کا اعلان کیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ایسا کرکے ہم انہیں سماجی پہچان دینا چاہتے ہیں۔ اس کے لیے انھوں نے بریلی کے سٹی مجسٹریٹ سے اجتماعی شادی کا پروگرام منعقد کرنے کی اجازت مانگی ہے، لیکن انتظامیہ نے اس پر کوئی جواب نہیں دیا۔ ہم قانونی اور مذہبی طریقے سے کام کر رہے ہیں۔ یہ لو جہاد کا معاملہ نہیں ہے، کیونکہ یہ لوگ پہلے سے ہی لیو ان ریلیشن شپ میں ہیں، جو اپنی تمام چیزوں کا فیصلہ کر چکے ہیں۔ آئی ایم سی کی جانب سے سٹی مجسٹریٹ کو بھیجے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ بہت سے نوجوان اور خواتین مولانا توقیر رضا خان سے رابطے میں ہیں، جو اسلام پر یقین رکھتے ہیں اور وہ مذہب اسلام میں شامل ہونا چاہتے ہیں اور مسلمان لڑکے لڑکیوں سے شادی کرنا چاہتے ہیں۔خبر کے مطابق اس خط میں کہا گیا ہے کہ تمام لڑکے اور لڑکیاں بالغ ہیں اور انہیں نہ تو کوئی رغبت دلائی گئی ہے اور نہ ہی کسی قسم کا دباؤ ڈالا گیا ہے۔ وہ ہندوستانی آئین کے تحت قانونی طور پر اپنی شادی کرنا چاہتے ہیں ۔ ملک میں گنگا جمنی ثقافت کی مثال قائم کرنے کے لیے اس طرح کے اجتماعی شادیوں کے پروگراموں کی اجازت ہونی چاہیے۔ آئی ایم سی نے 21 جولائی کو شہر کے خلیل ہائر سیکنڈری اسکول میں ایونٹ کا مقام مقرر کیا ہے۔
بریلی کی سیاست میں ہلچل
مولانا کے اس قدم نے بریلی کی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔ دراصل بریلی میں ایک طویل عرصے سے بین مذہبی شادیاں ہو رہی ہیں۔ مولانا کہتے ہیں کہ ایسے حالات میں جب مسلمان ہندو بن جائیں تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے۔ اس لیے اب کسی کو لیو ان جوڑوں کے مسلم مذہب قبول کرنے پر کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔









