پریاگ راج:مسجد گیانواپی کیس میں الہ آباد ہائی کورٹ نے اپنا فیصلہ سنایا ہے۔ ہائی کورٹ نے مسلم فریق کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے ویاس تہہ خانے میں ہندو فریق کی پوجا جاری رکھنے کا حکم دیا ہے۔
اس سے قبل وارانسی ڈسٹرکٹ کورٹ نے بھی اس معاملے میں ہندوؤں کے حق میں فیصلہ دیا تھا، جس کے خلاف مسلم فریق نے الہ آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ تاہم، یہاں بھی مسلم فریق کو مایوسی ہوئی اور الہ آباد ہائی کورٹ نے گیانواپی کے ویاس تہہ خانے میں ہندوؤں کو پوجا کرنے کا حق محفوظ رکھا۔
ہائی کورٹ نے ہندو اور مسلم دونوں فریقوں کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ پہلے ہی محفوظ کر لیا تھا۔ وارانسی عدالت کے اس حکم کو انجمن انتظام کمیٹی نے چیلنج کیا تھا، جس میں پوجا پر روک لگانے کی بات کہی گئی تھی۔
مسلم فریق نے دعویٰ کیا کہ وارانسی کورٹ نے ڈی ایم کو ریسیور مقرر کیا ہے، جو پہلے ہی کاشی وشوناتھ مندر کے رکن ہیں۔ اس لیے اسے تعینات نہیں کیا جا سکتا۔ مسلم فریق نے یہ بھی کہا ہے کہ دستاویز میں کسی تہہ خانے کا ذکر نہیں ہے۔ مسلم فریق نے یہ بھی کہا تھا کہ ویاس جی پہلے ہی پوجا کے حقوق ٹرسٹ کو منتقل کر چکے ہیں۔ انہیں پٹیشن دائر کرنے کا حق نہیں ہے۔







