نئی دہلی میونسپل کونسل (این ڈی ایم سی) نے حال ہی میں سنہری باغ مسجد کو "ٹریفک کی نقل و حرکت کی سہولت” کے پیش نظر ہٹانے کی تجویز پیش کی تھی۔
لیکن سنٹرل پبلک ورکس ڈپارٹمنٹ (سی پی ڈبلیو ڈی) کی ایک رپورٹ، جس نے سن 2021 میں سینٹرل وسٹا کی تعمیر نو سے متعلق ٹریفک کا جائزہ لیا تھا، میں کہا گیا تھا کہ سنہری باغ مسجد کے چوراہے پر فی الحال یا مستقبل میں ٹریفک جام ہونے کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے..
اخبار ,انڈین ایکسپریس, میں شائع خبر کے مطابق، اس ہفتے این ڈی ایم سی نے ایک پبلک نوٹس جاری کیا تھا جس میں یکم جنوری تک اپنی تجویز پر اعتراضات اور تجاویز طلب کی گئی تھیں۔
این ڈی ایم سی نے کہا، "سنہری باغ چوراہے کے ارد گرد ٹریفک کے بہاؤ کو یقینی بنانے کے لیے، انہیں دہلی ٹریفک پولیس کی طرف سے ٹریفک انجینئرنگ کی تجویز دی گئی، جس کے بعد انہوں نے لوگوں سے اعتراضات اور تجاویز طلب کیں۔”
مارچ 2021 میں، CPWD نے مرکزی وزارت ماحولیات کو ماحولیاتی اثرات کی تشخیص اور ماحولیات کے انتظام کے منصوبے کی رپورٹ پیش کی تھی۔ کدم ماحولیاتی کنسلٹنٹ کی طرف سے تیار کردہ یہ رپورٹ سینٹرل وسٹا پروجیکٹ کے لیے ماحولیاتی منظوری کے لیے درخواست کا حصہ تھی۔ اس منصوبے میں مشترکہ مرکزی سیکرٹریٹ، وزیر اعظم کی رہائش گاہ اور نائب صدر کے انکلیو کی تعمیر شامل تھی۔
اس تشخیص میں ٹاٹا کنسلٹنگ انجینئرز لمیٹڈ کا 2026 اور 2031 میں علاقے میں ٹریفک اور متعلقہ ٹریفک کا مطالعہ شامل تھا۔
یہ کام ان دونوں کنسلٹنٹس کو سنٹرل وسٹا پروجیکٹ بنانے والی آرکیٹیکٹ کمپنی HCP ڈیزائن، پلاننگ اور مینجمنٹ نے دیا
ہفتہ کو مسجد کے امام نے اس تجویز کے خلاف دہلی ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔اس کیس کی سماعت 8 جنوری 2021 کو ہونی ہے۔
ہائی کورٹ نے امام سے سوال کیا کہ اس معاملے کو ان کے بجائے دہلی وقف بورڈ کو عدالت میں لے جانا چاہیے تھا۔ اس کے جواب میں امام نے فرمایا کہ یہ وہ مسجد ہے جہاں نماز پڑھی جاتی ہے۔ میں وہاں نماز پڑھاتا ہوں۔ ایسی حالت میں میں جاننا چاہتا ہوں کہ میں نماز کیسے پڑھوں گا۔اخبار لکھتا ہے کہ امام نے عدالت میں دعویٰ کیا کہ بغیر تحقیق کے اور اعداد و شمار یا حقائق کی بنیاد پر مسجد کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا جا رہا ہے اور اسے ہٹانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔اخبار کے مطابق یہ 150 سال پرانی مسجد نئے وزیر اعظم آفس کمپلیکس کے قریب ہے جسے ایگزیکٹو انکلیو کہا جاتا ہے اور وزیر اعظم کی نئی رہائش گاہ ہے۔ یہ جگہ سینٹرل وسٹا کے دوبارہ تعمیر شدہ حصے میں آتی ہے۔
دہلی ٹریفک پولیس کے ایک سینئر اہلکار سے جب پوچھا گیا تو انہوں نے کہا، ’’ایسا کوئی پروجیکٹ نہیں ہے جس پر مسجد راستے میں آ رہی ہو، بلکہ یہ ایک چوراہے پر ہے اور ٹریفک پولیس اسے ہٹانا چاہتی ہے‘‘۔









