نئی دہلی۔(خاص خبر)اس بار آسام میں مسلمانوں کے مسیحا کے طور پر معروف مولانابدرالدین اجمل لوک سبھا میں نظر نہیں آئیں گے -ان کو اپنے انتخابی حلقہ میں بدترین شکست کا منھ دیکھنا پڑا ہے -یہی نہیں ان کی پارٹی آسام میں کھاتہ بھی نہیں کھول سکی ۔وہ جمعیتہ علما ئے ہند آسام کے صدرنشین کے علاوہ دارالعلوم دیوبند کی مجلس شوری کے رکن بھی ہیں –
خبر کے مطابق رقیب الحسن، جو آسام کے دھوبری سے کانگریس کے امیدوار تھے نے اے آئی یو ڈی ایف کے سربراہ حضرت مولانا بدرالدین اجمل کو دس لاکھ سے زیادہ ووٹوں سے شکست دے کر ایک ریکارڈ بنایا ہے۔ یہ آسام کی ایک ایسی لوک سبھا سیٹ ہے جہاں اب تک صرف مسلم امیدوار ہی لوک سبھا انتخابات جیتنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔
رقیب الحسن کون ہیں؟
کانگریس کے رقیب الحسین نے 1471885 ووٹ حاصل کیے اور اے آئی یو ڈی ایف کے سربراہ بدرالدین اجمل کو 1012476 ووٹوں سے شکست دی۔ اجمل کو 459409 ووٹ ملے۔ بدرالدین اجمل مسلسل چوتھی بار دھوبری سے الیکشن لڑ رہے تھے۔ بدقسمتی سے اس بار آسام میں اے آئی یو ڈی ایف اکاؤنٹ نہیں کھول سکی ہے۔ این ڈی اے نے آسام میں 11 سیٹیں جیتی ہیں جبکہ کانگریس نے تین سیٹیں جیتی ہیں۔ رقیب الحسن سماگوری اسمبلی حلقہ سے آسام قانون ساز اسمبلی کے رکن ہیں۔ اس بار کانگریس نے انہیں دھوبری لوک سبھا سیٹ سے امیدوار بنایا تھا۔
مولانا اجمل کے بارے میں یہ تاثر ہوگیا تھا کہ وہ وزیراعلی بسوا سے ملے ہوئے ہیں اور اپنے کاروباری مفادات کے تحفظ کے لئے بی جے پی کے کے لئے نرم گوشہ رکھتے ہیں ۔کانگریس نے ان کی پارٹی کو انڈیا گٹھ بندھن میں لینے سے انکار کردیا تھا اور ان کی پارٹی کو بی جے پی کی بی ٹیم کہتی تھی ۔شاید یہ پروپیگنڈہ اندر تک سرایت کرگیا اور ایک ایم ایل اے نے ان کی سیاسی بساط الٹ دی مولانا کے لئے یہ بہت بڑا جھٹکا ہے -ان کا سیاسی دبدبہ لگاتار ڈھلان کیطرف ہے









