بریلی :(ایجنسی)
اتحاد ملت کونسل (آئی ایم سی) کے قومی صدر مولانا توقیر رضا خاں نے کہا کہ ملک بھر میں مسلمانوں کے خلاف نفرت کا ماحول بنایا جا رہا ہے۔ جمعرات کو اپنی رہائش گاہ پر منعقدہ ایک پریس کانفرنس میں مولانا توقیر نے وزیر اعظم نریندر مودی کا موازنہ دھرتراشٹر سے کیا اور کہا کہ ملک کے حالات خراب ہونے کے باوجود ان کی خاموشی نہیں ٹوٹ رہی ہے۔ جس دن مسلمان سڑک پر نکل آیا تو کسی سے نہیں سنبھلے گا۔ ہم نہیں چاہتے کہ ملک میں ایک اور مہابھارت ہو۔ ہم اتحاد اور محبت کی فضا چاہتے ہیں،اس لیے وزیراعظم کو باہر آکر بولنا چاہیے۔ مولانا نے اعلان کیا کہ حالات نہ سدھرے تو عید کے بعد بڑی تحریک شروع کریں گے۔
مسلمانوں کو بھی چاہئے کہ وہ سماج وادی پارٹی سے دوری بنا لیں
انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کے ووٹوں پر اپنا وجود بنانے والی اپوزیشن جماعتیں خاموش ہیں۔ سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو کو نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے مسلمانوں سے کہا کہ وہ ان کا چہرہ پہچان لیں اور انہیں ووٹ نہ دیں۔ مولانا توقیر نے کہا کہ ایس پی کے ٹکٹ پر جو ایم ایل اے کامیاب ہوئےہیں ،انہیں مسلمانوں نے ہی ووٹ دے کر جتایا ہے ۔ اس میں سماج پارٹی پارٹی کا کوئی رول نہیں ہے ۔ پھر بھی ایس پی سربراہ آر ایس ایس ،ای ڈی اور سی بی آئی کے ڈر سے خاموش ہیں ۔ مسلمانوں پر ہو رہے ظلم پر ان کی زبان سے ہمدردی کاایک لفظ نہیں نکل رہاہے ۔ اس لئے مسلمانوں کو بھی چاہئے کہ وہ سماج وادی پارٹی سے دوری بنا لیں۔
خاموش بیٹھ کر تماشا دیکھنے سے بھی ملک کا نقصان ہوگا
مولاناتوقیر رضا نے تمام سیکولر اور مسلم ایم پیز-ایم ایل اے سے اپیل کی کہ وہ استعفیٰ دیں اور سڑکوں پر نکل آئیں اگر وہ اپنی پارٹی کے ایجنڈے کے پابند ہیں اور مسلمانوں کی آواز نہیں اٹھا سکتے ہیں۔ خاموش بیٹھ کر تماشا دیکھتے رہنے سے، نہ صرف ملت کو نقصان پہنچے گا بلکہ ملک کو بھی نقصان پہنچے گا۔
ہتھیار لہرانے والے اب اپنے آقاؤں کے قابو سے باہر ہو چکے ہیں
انہوں نے کہا کہ ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان نفرت پھیلانے والوں کے حوصلے بلند ہیں۔ مذہبی جلوسوں میں ہتھیار لہرانے والے اب اپنے آقاؤں کے قابو سے باہر ہو چکے ہیں۔ اسلحہ چھوٹے بچوں کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ مساجد میں بھگوا جھنڈے زبردستی لہرائے جارہے ہیں۔ ہجوم مسلم اکثریتی علاقوں میں گھس کر ناشائستہ نعرے بازی کر رہا ہے۔ اس کے باوجود حکومتیں فسادیوں کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے مسلمانوں کے خلاف فرضی مقدمے لکھوا رہی ہیں۔ مسلمانوں کی جائیدادوں اور کاروبار پر بلڈوزر چلائے جا رہے ہیں۔ کوئی مجرم ہے تو اس کی جائیداد ضبط کی جائے، بلڈوزر چلا کر ملک کا نقصان کیا جا رہا ہے۔
اذان کے معاملے پر مولانا توقیر رضا نے کہا کہ ہنومان چالیسا ہندوؤں کے لیے بہت اہمیت رکھتی ہے۔ ہندوؤں کے مذہبی عقیدے سے ہنومان چالیسا پڑھنے پر کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا لیکن سیاسی مقاصد کے لیے اور مسلمانوں کو ہراساں کرنے کے لیے ہنومان چالیسا پڑھنے پر کوئی عقیدہ نہیں رکھ سکتا۔ ایسے لوگ اپنے ہی مذہب کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ ملک کے ساتھ مذہب کو بھی بدنام کر رہے ہیں۔ دہلی کے مسلمانوں کو ہراساں کیا جا رہا ہے کیونکہ انہوں نے کجریوال کو ووٹ دیا تھا۔ اب جب مسلمانوں پر ظلم ہو رہا ہے تو کجریوال بھی اپنی ذمہ داری سے بھاگ رہے ہیں۔ وہ متاثرین کو معاوضہ دیں۔ مولانا توقیر نے اس معاملے پر ایس پی کے سینئر لیڈر اعظم خاں سمیت دیگر مسلم لیڈروں سے بات کرنے کی بھی بات کی۔










