نئی دہلی :(ایجنسی)
یوپی انتخابات میں عبرتناک شکست کے بعد راہل گاندھی نے بڑا انکشاف کیا ہے۔ انہوں نے بتایا ہے کہ انتخابات سے پہلے کانگریس بی ایس پی کے ساتھ اتحاد کرنا چاہتی تھی۔ مایاوتی کو بھی سی ایم کے عہدے کی پیشکش کی گئی تھی، لیکن انہوں نے جواب تک نہیں دیا۔
راہل گاندھی نے کہا ہے کہ مایاوتی نے اس بار الیکشن لڑا ہی نہیں۔ انہیں ہماری طرف سے اتحاد کی پیشکش کی گئی تھی۔ ہم نے تویہ بھی کہا تھا کہ وہ وزیر اعلیٰ بن سکتی ہیں، لیکن انہوں نے ہماری پیشکش کا جواب نہیں دیا۔ راہل گاندھی کے مطابق مایاوتی اب ای ڈی، سی بی آئی کے خوف سے لڑنا نہیں چاہتی ہیں۔
مایاوتی کو لے کر راہل کا انکشاف، کیا معنی ؟
اس سلسلے میں وہ بتاتے ہیں کہ ہم کاشی رام کا بہت احترام کرتے ہیں ۔ انہوں نے دلتوں کو بااختیار بنایا تھا۔ کانگریس کمزور ہوئی ہے، لیکن یہ مسئلہ نہیں ہے۔ دلتوں کو بااختیار بنانے کی ضرورت ہے۔ لیکن مایاوتی کہتی ہیں کہ وہ نہیں لڑیں گی۔ راستہ ایک بالکل کھلا ہے، لیکن سی بی آئی، ای ڈی، پیگاسس کی وجہ سے وہ لڑنا نہیں چاہتی۔ اب انتخابی نتائج کے بعد راہل گاندھی کا یہ بیان بہت معنی رکھتا ہے۔ سوال یہ بھی ہے کہ اگر انتخابات سے پہلے بی ایس پی کا کانگریس کے ساتھ اتحاد ہوتا تو کیا زمینی حالات بدل جاتے، کیا دونوں پارٹیوں کی کارکردگی بہتر ہوتی؟
ویسے تو اتر پردیش کے انتخابات میں کانگریس اور بی ایس پی دونوں نے اکیلے ہی اپنے دم پر لڑا تھا۔ اس الیکشن میں دونوں پارٹیوں کا صفایا ہو گیا ہے۔ ایک طرف، اگر کانگریس نے دو سیٹیں جیتی ہیں، تو مایاوتی کی بی ایس پی نے بدترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے صرف ایک سیٹ جیتی ہے۔ انتخابی نتائج کے بعد بی ایس پی سربراہ نے مسلمانوں کا ذکر ضرور کیا، یہ بھی کہا کہ ان کا ووٹ یکطرفہ طور پر ایس پی کو گیا، لیکن تب مایاوتی نے اس تجویز پر کوئی بات نہیں کی۔ اب راہل گاندھی نے اس معاملے کو اٹھا کر سیاسی گلیاروں میں بحث تیز کر دی ہے۔
یوپی انتخابات میں بی ایس پی کی خراب کارکردگی کی بات کریں تو اس بار پارٹی کو 10 فیصد کم ووٹ ملے ہیں۔ بی ایس پی کا ووٹ شیئر 2017 میں 22 فیصد سے گھٹ کر صرف 12 فیصد رہ گیا ہے۔ اس سب سے بڑھ کر مایاوتی کے بنیادی ووٹر جاٹو بھی بی جے پی کے ساتھ چلے گئے، ایسے میں نہ مسلمانوں کو ووٹ ملے، نہ برہمن اکٹھے ہوئے اور نہ جاٹو کی حمایت۔










