اردو
हिन्दी
اگست 24, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

بیٹے عمر خالد سے جیل میں ملاقات

1 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ فکر ونظر
A A
0
555
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

تحریر: صبیحہ خانم

(کئی سالوں سے بغیر سزاکے جیل بند عمر خالد ظلم کے خلاف جدو جہد کا استعارہ بن چکا ہے ،مہینوں بعد اپنے جگرگوشہ سے جیل میں ملاقات کرنے والیں عمر خالد کی ماں  نے  ان جذبوں کو قلم بند کیا ہے ،سادگی بھری زبان میں محبت و عزیمت  کے سمندر کو لفظوں کے کوزے میں بند کردیا ہے ،outlook میں لکھے مضمون کا ترجمہ الیاس  عمر کے شکریہ کے ساتھ دیاجارہا ہے )

(اپنے بیٹے عمر خالد سے جیل میں ملاقات نے میرے دل کو نئی زندگی دی، میری ہمت کو تازگی بخشی۔
پچھلے دو ہفتوں سے عمر کی کوئی ویڈیو کال نہیں آئی تھی۔ معلوم ہوا کہ تکنیکی خرابی کے باعث آن لائن ملاقات ممکن نہیں رہی۔ دل بے چین ہونے لگا کیونکہ وہی ویڈیو کال ایک ادھوری سی ملاقات کا سہارا تھا، اور اب وہ بھی ختم ہو چکا تھا۔ آنکھوں سے آنسو بہتے رہے، دل بوجھل تھا۔ اچانک دل میں ایک خیال آیا — کیوں نہ سامنے سے جا کر بیٹے سے ملاقات کی جائے؟
شوہر سے بات کی تو انہوں نے ایک ضروری مصروفیت کا حوالہ دے کر معذرت کرلی۔ میں نے ہمت نہ ہاری اور خود اکیلے جانے کا فیصلہ کیا۔ اس عمر میں جیل جانا آسان نہیں۔ لیکن جب انسان اللہ پر بھروسا رکھے اور ارادہ پختہ ہو تو راستے خود آسان ہو جاتے ہیں۔کئی مہینوں بعد آج بیٹے سے روبرو ملاقات کا دن تھا۔ دل میں عجیب سی کیفیت تھی۔ یہ ملاقات بھی کیسی ہے — درمیان میں دو شیشے، ایک طرف ہم اور دوسری طرف عمر۔ نہ ہاتھ ملا سکتے، نہ چہرہ صاف دکھائی دیتا ہے۔ ایک دھندلا سا عکس اور انٹرفون پر بات چیت۔
جمعہ کی صبح 9 بجے گھر سے نکلی۔ جامعہ نگر سے تہاڑ جیل کا سفر کافی طویل اور رش بھرا ہے۔ ایک گھنٹے میں وہاں پہنچی۔ میں عمر کے لیے چمڑے کی چپلیں لے گئی تھی، لیکن چیکنگ والے نے اندر لے جانے کی اجازت نہ دی۔ بڑی منت سماجت کی، لیکن انہوں نے نہ سنی۔ مجبوراً وہ چپلیں وہیں چھوڑنی پڑیں۔
جیل کے باہر مرد، عورتیں اور بچے لمبی قطاروں میں کھڑے تھے۔ آج شاید عام دنوں سے زیادہ ملاقات کرنے والے آئے تھے۔ میں بھی قطار میں کھڑی ہو گئی۔ میرے پیچھے دو خواتین اپنے رشتہ داروں کے بارے میں باتیں کر رہی تھیں — ایک کا بیٹا ریپ کے الزام میں ایک سال سے جیل میں تھا، دوسری کا بہنوئی آٹھ ماہ سے۔ میں خاموش رہی، سنتی رہی۔ سوچتی رہی کہ ان سے کیسے کہوں کہ میرا بیٹا بے قصور ہونے کے باوجود پانچ سال سے قید میں ہے۔
خیالات کا سلسلہ جاری تھا۔ یاد آیا کہ عمر کو دو بار 7 دن کی پیرول ملی تھی — بہن اور کزن کی شادی کے لیے۔ وہ چند دن خوشی میں گزر گئے، اور پھر وہی قید۔آخر ایک گھنٹے بعد میری باری آئی، ملاقات کی پرچی ملی۔ لیکن آگے ایک اور لمبی قطار — اس بار عمر کے ماہانہ خرچ کے لیے رقم جمع کرانے کی۔ اس سارے عمل میں ملاقات سے زیادہ وقت قطاروں میں گزرا۔پھر جوتے ایکسرے سے گزرے، جسمانی تلاشی ہوئی، اور آخرکار میں اندر داخل ہوئی۔ جیل نمبر 2 جہاں ملاقات ہونی تھی، وہاں تک 15 منٹ پیدل چلنا پڑا۔
ملاقات کے مقام پر ایک خاتون عملے نے پرچی لی اور کہا، ’’اوہ! آپ عمر کی امی ہیں؟ اُس کے دوستوں کو تو دیکھا ہے، آپ کو پہلی بار دیکھ رہی ہوں۔‘‘ ان کی آواز میں خلوص تھا۔ انہوں نے رجسٹر میں انگوٹھا لگوایا اور انتظار گاہ میں بیٹھا دیا۔ان کی آنکھوں میں عمر کے لیے عزت محسوس ہوئی۔ سوچا، یہ عمر کے اخلاق و کردار کی وجہ سے ہوگا۔ جیل جیسی جگہ جہاں گالیاں اور بدزبانی عام ہیں، وہاں اگر کوئی قیدی خوش اخلاق ہو، تو دل جیت لیتا ہے۔ عمر کی فطرت میں ہی عاجزی اور محبت ہے۔ وہ کبھی غصہ نہیں کرتا۔
اب جیل کا ہر عملہ جانتا ہے کہ عمر بے قصور ہے، ریاستی مظالم کا شکار ہے۔
انتظار گاہ میں پرندوں کی چہچہاہٹ دل کو بھلی لگی۔ لگا جیسے پرندے آزاد ہو کر اعلان کر رہے ہوں، ’’ہم یہاں بھی آزاد ہیں۔‘‘ اور ہم جو باہر رہ کر خود کو آزاد کہتے ہیں، اندر عمر جیسے ہزاروں قیدی بے بسی کی قید میں ہیں۔عمر، جو یونیورسٹی کے اندر اور باہر ہر محاذ پر سرگرم تھا، جو جنتر منتر پر آواز اٹھاتا تھا، جو ملک بھر میں انصاف کی بات کرتا تھا — اُس کے لیے یہ قید بہت سخت امتحان ہے۔ پانچ سال کی قید — ایک دو دن کی بات نہیں۔اگر اُسے مطالعے کا شوق نہ ہوتا تو نہ جانے وقت کیسے گزرتا۔ ان پانچ سالوں میں اس نے 300 سے زائد کتابیں پڑھ لی ہیں۔
اسی دوران لاوڈ اسپیکر پر مسلسل اعلانات ہو رہے تھے۔ اچانک “عمر خالد” کا نام سنائی دیا۔ میں جلدی سے ملاقات کے کمرے کی طرف دوڑی۔ شیشے کے پیچھے سے عمر نظر آیا — اُس نے ایک درخت سے توڑ کر میرے لیے چھوٹا سا پھول لایا تھا۔ وہ پھول میرے لیے کسی قیمتی تحفے سے کم نہ تھا۔ہم نے انٹرفون پر بات شروع کی۔ عمر نے کہا، ’’امی، بہت دیر ہوگئی، میں کافی دیر سے انتظار کر رہا ہوں۔‘‘میں نے جواب دیا، ’’ہاں بیٹا، قطاروں میں بہت وقت لگ گیا۔‘‘
اس نے خاندان کے ہر فرد کا نام لے کر خیریت پوچھی، خاص طور پر ابو کی صحت کا خیال رکھا۔ بہنوں اور بچوں کے بارے میں پوچھا۔ وہ جیل کی زندگی کے بارے میں بتا رہا تھا، اور میں کھانے پینے، صحت، گرمی کے بارے میں سوالات کیے جا رہی تھی۔عمر ہر سوال کا تحمل سے جواب دیتا رہا اور مسلسل گھر والوں کی فکر کرتا رہا۔ اس نے کہا کہ وہ ابو کی خبروں کو روز اخبار میں پڑھتا ہے اور ابو سے کہو کہ سفر کم کریں اور صحت کا خیال رکھیں۔

ملاقات پلک جھپکتے ختم ہو گئی۔ عمر مختلف کھڑکیوں سے ہوتا ہوا اُس کھڑکی کے پاس آ گیا جو گیٹ کے قریب تھی۔ میں پیچھے مڑ کر دیکھتی رہی، شیشے کے پار چہرہ صاف نظر نہ آیا، لیکن شاید وہ کھڑا ہو کر مجھے جاتے ہوئے دیکھ رہا تھا۔ میں آہستہ آہستہ، بھاری قدموں سے واپس لوٹ آئی۔لیکن واپسی پر میرا سر بلند تھا۔ مجھے فخر تھا کہ میرا بیٹا کسی جرم میں نہیں، بلکہ مظلوموں کا ساتھ دینے اور ظالمانہ قانون کے خلاف کھڑے ہونے کی پاداش میں قید ہے۔ اُس نے ہمارے ان بزرگوں کی وراثت کو زندہ کیا جو انگریزوں کے ظلم کے خلاف جیل گئے، مگر سر نہیں جھکایا۔میرے بیٹے کی ثابت قدمی نے مجھے نئی طاقت دی۔
یہ رتبہ بلند ملا جس کو مل گیا
ہر مدعی کے واسطے دار و رسن کہاں
عمر کی قربانی، صبر اور استقامت ایک دن ضرور رنگ لائے گی۔ جیلوں میں بند ہر اس آواز کی جدوجہد رنگ لائے گی جو صرف انصاف کے لیے بولی تھی۔ میرے دل میں اُن سب ماؤں کے لیے ہمدردی ہے، جن کے بیٹے اور بیٹیاں آج ظلم کے خلاف بولنے کی سزا کاٹ رہے ہیں۔ لیکن مجھے یقین ہے وہ بھی میرے جیسے فخر کے جذبات رکھتے ہوں گے۔
جب تاریخ لکھی جائے گی، تو ہمارے بیٹے بیٹیاں خاموش رہنے والوں میں نہیں بلکہ سچ بولنے والوں میں گنے جائیں گے۔
مجھے اس وقت فخر ہوا جب سنا کہ دنیا کے دوسرے حصے میں زہرَان ممدانی جیسے لوگ میرے بیٹے کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کر رہے ہیں۔ یہاں بھی بہت سے لوگ ان سالوں میں ہمارے گھر آئے — پرکاش راج، سوارا بھاسکر جیسے مشہور اداکار، بزرگ سماجی کارکنان۔ایک دن جنید کی ماں — وہی 17 سالہ لڑکا جو 2017 میں ہریانہ میں پیٹ پیٹ کر مار دیا گیا — اچانک ہمارے گھر پہنچ گئیں۔ عمر نے اُس وقت اس ظلم کے خلاف آواز بلند کی تھی۔ وہ ماں میری ہمت بڑھانے اور دعائیں دینے کے لیے سب مشکلات سہہ کر آئی تھیں۔
میں ان سب کا شکر ادا نہیں کر سکتی۔ وہی میرا حوصلہ ہیں۔ اور یہ حوصلہ مجھے یقین دلاتا ہے کہ یہ سیاہ دور ختم ہوگا۔ آخرکار محبت، اتحاد، اور انصاف کی آوازیں ہی غالب آئیں گی۔

(8 جولائی 2025، آؤٹ لک میگزین سے ماخوذ)

ٹیگ: articlejulyMeeting، My Son، Umar Khalid، Jail،outlooksabeeha khanamsqrilyas

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

US Iran War Strategic Defeat News
مضامین

امریکہ – اسرائیل – ایران جنگ میں امریکہ کی اسٹریٹجک ہار پہلے سے طے

23 مارچ
Hormuz Strait Iran Speech
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
حافظ قرآن کی عظمت اور ان کا مقام و مرتبہ

حافظ قرآن کی عظمت اور ان کا مقام و مرتبہ

مارچ 31, 2022

موجودہ دور میں مسلمان دل ودماغ جیتنے کی مہم چھیڑیں:امیر جماعت

فروری 28, 2023
اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

مارچ 23, 2021
جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

Easy SIR Form Filing

بھارت میں مسلم ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے نکالے جا رہے ہیں؟ UN کی رپورٹ میں بھارت کے SIR عمل پر سوالات

ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جولائی 22, 2026
اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

جولائی 13, 2026
Easy SIR Form Filing

بھارت میں مسلم ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے نکالے جا رہے ہیں؟ UN کی رپورٹ میں بھارت کے SIR عمل پر سوالات

جولائی 12, 2026
ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

جولائی 10, 2026

حالیہ خبریں

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جولائی 22, 2026
اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

جولائی 13, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN