نئی دہلی:(پریس ریلیز)
”یوکرین میں جاری جنگ کے حالات پر ہم سخت تشویش کا اظہار کرتے ہیں۔دنیا ابھی کورونا کے قہر سے ابھر بھی نہیں پائی ہے اور اب لوگوں پر جنگ مسلط کی جارہی ہے۔ اس فوجی کارروائی کے مکمل جنگ میں بدل جانے کے نہایت واضح اندیشے ہیں۔ ایسا ہوا تو یہ دنیا میں مزید تباہی کا باعث ہوگا۔ ہم ایک مہذب دنیا میں رہتے ہیں جہاں قوموں کے درمیان اختلافات اور تنازعات کو سفارت کاری، گفت و شنید اور بات چیت کے ذریعے حل کیا جانا چاہئے۔ فوجی کارروائی اورممالک پر قابض ہونے کے رجحانات، ملکوں کے درمیان تنا زعات کو حل کرنے کا طریقہ نہیں ہے“۔ امیر جماعت اسلامی ہند سید سعادت اللہ حسینی نے میڈیا کو جاری اپنے بیان میں یہ تبصرہ کیا۔
حکومت ہند سے مطالبہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ” جماعت اسلامی ہند حکومت ہند سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ اس تنازعے کے حل میں ایجابی سفارتی کردار ادا کرے اور جارح ملکوں پر اپنے اثر و رسوخ کا استعمال کرتے ہوئے انہیں آمادہ کرے کہ وہ فوری جنگ روک دیں اور تنازعات کے حل کے لیے گفت و شنید کا راستہ اپنائیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ”ہم حکومت ہند سے یہ بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ یوکرین میں پھنسے ہوئے ہندوستانیوں کو ملک واپس لانے کے لئے بھرپور کوشش کرے۔ ہم خاص طور پر وہاں پھنسے ہویئے بیس ہزار سے زیادہ طلبہ کے بارے میں فکر مند ہیں اور چاہتے ہیں کہ انہیں جلد سے جلد تمام ممکنہ زمینی اور فضائی راستوں کا استعمال کرکے، مفت ملک واپس لایا جائے۔ فضائی سفر کے بھاری اخراجات کے طلبہ متحمل نہیں ہیں۔ اس لیے سفر کے انتظامات اور سفر کے اخراجات دونوں امور میں حکومت کا فوری بھرپور تعاون ضروری ہوگیا ہے۔
امیر جماعت نے اپنے بیان کے آخر میں کہا کہ اس تنازعے نے عالمی طاقتوں کی منافقت کو پھر ایک بار بے نقاب کیا ہے۔ جن قوتوں نے ماضی قریب میں عراق، افغانستان، وغیرہ ملکوں کو تباہ کردیا، وہی اب روسی جارحیت پر واویلا مچارہے ہیں۔ بڑی طاقتوں کے یہ دہرے معیارات ہی عالمی بدامنی کا سب سے بڑا سبب ہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ اقوام متحدہ جیسے اداروں کی جمہوری و انسانی بنیادوں پر تشکیل نو کی جائے اور دنیا ظالم و مظلوم کے خیموں کو دیکھے بغیر اصولوں کی بنیاد پر متحدہ موقف اختیار کرنے کی طرف آگے بڑھے۔










