اورنگ آباد 🙁 پریس ریلیز )
ممنوعہ تنظیم داعش سے تعلق رکھنے کے الزام میں اورنگ آباد اور ممبرا کے گرفتار شدہ نو جوانوں مظہر عبد الرشید ،محسن سراج الدین خان ،سلمان سراج الدین خان ،تقی سراج الدین خان ،سر فراز عبد الحق عثمانی،طلحہ حنیف پوترک ،فہد اشتیاق انصاری ،ضمان نواب قطو پاڑاور مشاہد جو کہ عدالتی تحویل میں ہیں اور اورنگ آباد کی ہرسول سینٹرل جیل میں جنوری 2019سے قید و بند کی زندگی گذار رہے ہیں ۔ ان کے مقدمہ کی سماعت اور نگ آباد کی خصوصی عدالت میں برق رفتاری سے جاری ہے اس لئے اس میں رخنہ ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے ،پولیس اہلکاروںکے پاس ان ملز مین کے خلاف کوئی خاطر خواہ ثبوت نہ ہونے کی وجہ سے ان بے گناہوں کو گنہگار ثابت کرنے کے لئے ان پر دبائو ڈالا جا رہا ہے اور تشدد سے کام لیا جا رہے تاکہ وہ وعدہ معاف گواہ بن سکیں ۔
اورنگ آباد ممبرا داعش معاملہ کے یہ ملز مین عدالتی تحویل کے دوران ہرسو ل سینٹرل جیل میں انتہائی نگہداشت والے بیرک میں ہو نے کے باوجود پولیس اہلکاروں کا عدالت کی اجازت کے بغیر وہاں تک پہنچنا ،ان پر دبائو ڈالنا ،اور تشدد کرنا انتہائی تشویشناک بات ہے ۔ان ملز مین پر کئے جا رہے مظالم کی اطلاع نہ دفاع کو تھی نہ استغاثہ کو تھی لیکن آج عدالتی سماعت کے دوران ان ملز مین نے کہا کہ ہمیں وعدہ معاف گواہ بننے کے لئےپولیس دھمکارہی ہے اور ہم پر تشدد کر رہی ہے،جس پر استغاثہ نے انہیں تیقن دیا کہ اس کی تحقیقات کی جائے گی اور خاطی پائے جانے والے پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی ۔
واضح رہے کہ عدالتی تحویل کے دوران ایسے ملز مین سے جیل میں ملاقات کرنے کے لئے عدالت سے اجازت لینی پڑتی ہے ،آمدو رفت کے وقت رجسٹر پر اندراج کرنا پڑتا ہے،جیلر اور جیل انتظامیہ کو پہلے سے مطلع کرنا پڑتا ہے ،ان سب کے باوجود پولیس اہلکاروں کی جا نب سے قانون کی پامالی اور اس کی دھجیاں اڑاتے ہوئے بلا روک ٹوک ان ملز مین تک پہنچ کر انہیں دھمکایا جا رہا ہے اور ان پر تشدد کیا جا رہا ہے جو کہ نہ صرف انتہائی تشویشناک ہے بلکہ آئین اور قانون کے ساتھ کھلا مذاق ہے ،لہٰذا ایسے لوگوں کے خلاف سخت کارروائی کی ضرورت ہے۔
جمعیۃ علماء مہا راشٹر کے صدر مولانا حافظ محمد ندیم صدیقی نے ان ملز مین پر ہو رہے تشدد کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پولیس اہلکاروں کی جانب سے ملز مین پر ڈالے جا رہے دبائو کی وجہ سے کیس پر منفی اثر پڑ رہا ہے ۔اپنی کمزوریوں کو چھپانے اور ان پر پردہ ڈالنے کے لئے استغاثہ کی جا نب سے یہ کھیل کھیلا جا رہا ہے ہم حکومت مہا راشٹر سے مطالبہ کر تے ہیں کہ اس کی چھان بین کی جائے ،اس کی غیر جانبدارانہ طریقے پر تحقیقات کی جائے اور اس میں ملوث خاطیوں کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کی جائے ۔










