لکھنؤ:اتر پردیش میں سیاسی طوفان تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ جمعہ کو وزیر مملکت سونم کنر نے بھی اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ تاہم حکومت کی جانب سے ابھی تک ان کا استعفیٰ قبول نہیں کیا گیا ہے۔ سونم کنر گورنر سے ملنے آئی تھیں۔ تب سے یہ قیاس آرائیاں کی جارہی تھیں کہ وہ استعفیٰ دے سکتی ہیں۔ سونم ایس پی چھوڑ کر بی جے پی میں شامل ہوئے تھیں۔
سونم کنر نے کہا کہ لوک سبھا انتخابات میں شکست کی ذمہ داری کوئی نہیں لے رہا تھا، اس لئے میں اس کی ذمہ داری لیتی ہوں۔ انہوں نے کہا کہ اب حکومت میں نہیں تنظیم میں کام کروں گی۔ پارٹی حکومت سے بڑی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت میں بیٹھے عہدیدار کارکنوں کی بات نہیں سنتے۔ واضح ہوکہ سونم کنر ہمیشہ بیوروکریسی کے خلاف آواز اٹھاتی رہی ہیں۔ معلوم ہوا ہے کہ سونم کنر شروع سے ہی یوگی حکومت کے بلڈوزنگ ایکشن کے خلاف بھی آواز اٹھاتی رہی ہیں۔
افسران سنتے ہی نہیں۔
سونم کنر نے کہا کہ افسروں نے حکومت کو برباد کر دیا ہے۔ کچھ افسران سی ایم یوگی کی بات تک نہیں سنتے۔ افسران کو صرف پیسہ کمانے کی فکر ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے سی ایم یوگی سے شکایت کی ہے کہ میرے محکمے میں کئی افسران کام نہیں کرتے لیکن آج تک کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔ انہوں نے افسر سے کہا کہ میرے بچے کا داخلہ لے لیں لیکن ایسا نہیں ہوا۔ ایسے راجہ کے ساتھ کیسے کام کروں گی، استعفیٰ دے کر تنظیم میں کام کروں گی-
انہوں نے کہا کہ میں اپنے ہی محکمے میں ہونے والی کرپشن کو نہیں روک پا رہی ،عوام کے کام نہیں کروا پا رہی تو وزیر رہنے کا کیا فائدہ۔ ڈپٹی سی ایم کے الفاظ کو دہراتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تنظیم حکومت سے بڑی ہوتی ہے۔
یوگی حکومت نے سونم کنر کو اتر پردیش ٹرانس جینڈر ویلفیئر بورڈ (اتر پردیش کنر کلیان بورڈ) کا نائب چیئرمین بنایا تھا۔ سونم کا پورا نام کنر سونم چشتی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ان کا تعلق اجمیر سے ہے، سونم گزشتہ کئی سالوں سے خواجہ سراؤں کو معاشرے میں برابر کا درجہ دلانے کے لیے کام کر رہی ہیں۔ اس کے علاوہ وہ سماجی کاموں سے بھی وابستہ ہیں۔









