اردو
हिन्दी
اگست 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

مودی کی ساکھ گری،خوف میں کمی ،امکانات کے دروازے کھلے

2 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ خبریں
A A
0
433
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

*تجزیہ:یوگیندریادو
آخر جمہوریت میں عوام ہی نظام پر غالب آئے۔ انتخابی نتائج والے روز صبح کے وقت میں نے کہا تھا کہ اگر بی جے پی کو اس کے پچھلی تعداد یعنی 303 سے ایک سیٹ بھی کم ملتی ہے تو اسے حکومت کی شکست تصور کیا جائے گا۔ اگر حکمراں پارٹی اکثریت کے نشان یعنی 272 سے نیچے رک جاتی ہے تو اسے بی جے پی کی سیاسی شکست سمجھا جانا چاہئے اور اگر بی جے پی کی تعداد 250 سے نیچے آ جاتی ہے تو اسے وزیر اعظم نریندر مودی کی ذاتی شکست سمجھنا چاہئے۔ آخر کار بی جے پی محض 240 تک محدود رہ گئی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ الیکشن کا نتیجہ پچھلی حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد، بی جے پی کی سیاسی شکست اور نریندر مودی کی ذاتی شکست ہے۔
جے پی کے ووٹوں میں بے شک صرف ایک فیصد کی کمی آئی ہے اور اس نے ساحلی ریاستوں بالخصوص اوڈیشہ، آندھرا پردیش، تلنگانہ اور کیرالہ میں نمایاں کامیابی حاصل کی ہے، لیکن اس الیکشن کے نتائج کو صرف اعداد و شمار سے نہیں سمجھا جا سکتا۔ یہ ایک ہموار میدان میں دو ٹیموں کے درمیان انتخابی دوڑ نہیں تھی۔ حکمران پارٹی آرام دہ اور پرسکون جوتے پہن کر اسٹیڈیم میں دوڑ رہی تھی تو اپوزیشن کانٹے دار جھاڑیوں اور پتھروں کو عبور کرتے ہوئے پہاڑوں پر چڑھنے پر مجبور تھی۔ ایسے مشکل حالات میں بھی اگر اپوزیشن حکمران جماعت سے 63 نشستیں چھین کر اکثریت کے نشان سے نیچے لے آتی ہے تو اسے جمہوریت کا کرشمہ ہی کہا جائے گا۔ اس کا کریڈٹ پارٹیوں سے زیادہ عوام کو جاتا ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ ہندوستانی عوام نے ایک بار پھر حکومت کے غرور کو خاک میں ملا دیا ہے اور آمریت کی طرف بڑھتے ہوئے قدم ایک بار پھر رک گئے ہیں۔ سوال صرف یہ ہے کہ اس مینڈیٹ سے کہاں اور کتنی امید رکھی جائے۔ بہتر ہو گا کہ ہم ضرورت سے زیادہ جوش و خروش سے گریز کریں۔ یہ بات یقینی ہے کہ اس انتخابی نتیجے نے جمہوری امکانات کے دروازے کھول دیے ہیں۔ اس نظام کی چار بڑی سیڑھیوں میں دروازے سے اندر داخل ہونے کے بعد لوگ کتنے قدم چل پائیں گے، یہ فی الحال کہنا مشکل ہے۔
چوتھا اور سب سے بڑا قدم حکومتی پالیسی کا ہے، جس تک پہنچنے کی توقع سب سے کم ہے لیکن سب سے زیادہ زیر بحث ہے۔ سب قیاس آرائیاں کر رہے ہیں کہ وزیر اعظم کے اتحادیوں پر انحصار کی وجہ سے ان کے کام کرنے کے انداز میں کچھ تبدیلی آئے گی۔ وزیراعظم کی جانب سے اپنی افتتاحی تقریر میں اتفاق رائے، مذہبی مساوات اور آئین پر یقین جیسے الفاظ کے استعمال نے اس قیاس آرائی کو مزید تیز کر دیا ہے، لیکن میں اس پر یقین نہیں کرتا۔
نریندر مودی کو بیک فٹ پر کھیلنے کی کوئی مشق نہیں ہے۔ اس کے برعکس یہ ممکن ہے کہ وزیراعظم کمزور حکومت کی شبیہ کو توڑنے کے لیے کچھ جارحانہ اقدامات کریں۔ یوں بھی چندرابابو نائیڈو اور نتیش کمار سے نظریاتی وابستگی یا سیاسی ہمت کی توقع کرنا زیادتی ہے۔ ہاں، یہ توقع ضرور ہے کہ بی جے پی کے اتحادی وفاقی ڈھانچے کو نقصان پہنچانے والے فیصلے یا اقلیتوں کے حقوق کو براہ راست چھیننے والے کسی بڑے قدم پر بریک لگا سکتے ہیں۔
تیسرا مرحلہ اداروں کے وقار کا ہے جہاں کچھ زیادہ کی توقع کی جا سکتی ہے۔ انتظامیہ اور سی بی آئی یا ای ڈی جیسے اداروں میں بہتری کی امید رکھنا فضول ہوگا کیونکہ یہ سب براہ راست حکومت کے انگوٹھے کے نیچے ہیں۔ سنٹرل ویجلنس کمیشن، انفارمیشن کمیشن اور الیکشن کمیشن جیسے آئینی خود مختاری والے اداروں سے توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ حکومت کی حمایت کرتے ہوئے اب کچھ شرم کریں گے۔ عدلیہ سے یہ توقع کی جانی چاہیے کہ کم آئین و قانون کی دھندلی سی پڑی عبارت کم از کم کچھ ججوں کو نظر آنے لگے گی۔
شہریت قانون میں ترمیم، الیکشن کمشنروں کی تقرری کو چیلنج اور الیکٹورل بانڈ گھوٹالہ کی عدالتی تحقیقات جیسے معاملات میں امیدیں پروان چڑھتی ہیں یا نہیں یہ آنے والے چند مہینوں میں معلوم ہو جائے گا۔ ساتھ ہی یہ بھی امید کی جانی چاہئے کہ مین اسٹریم میڈیا کو بھی اس الیکشن میں بی جے پی کے ترجمان کے طور پر کھڑے ہو کر شرمندگی کا سامنا کرنے کے بعد کچھ عقل آئی ہوگی۔ اس بات کی زیادہ امید نہیں کہ ٹی وی اینکرز اور اخبارات حکومت کی خوشامد بند کر دیں گے لیکن کم از کم یہ ممکن ہے کہ میڈیا اپوزیشن جماعتوں، لیڈروں اور مظاہرین پر بھیڑیوں کی طرح حملہ کرنے سے گریز کرے گا۔
دوسرے مرحلے پر پارلیمنٹ آتی ہے، جس میں کچھ اور تبدیلیوں کی امید ہے۔ لوک سبھا میں تعداد کے عدم توازن کے بہت کم ہونے کے بعد توقع کی جانی چاہئے کہ پارلیمنٹ میں بحث ہوگی، بغیر بحث کے عجلت میں قانون پاس کرنے کا رواج بند ہو جائے گا، اگر ارکان پارلیمنٹ کو پارلیمنٹ میں بولنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، تو ارکان پارلیمنٹ باہر اپنی آواز اٹھائیں گے۔ یہ بھی توقع کی جا سکتی ہے کہ گزشتہ دس سالوں کے مقابلے میں پارلیمانی اپوزیشن مسائل کو زیادہ مؤثر طریقے سے اٹھائے گی، متبادل تجاویز پیش کرے گی اور آئندہ اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کو شکست دینے کے انتظامات بھی کرے گی۔

پہلی اور مضبوط ترین پوزیشن پر عوامی تحریک اور مزاحمت ہوتی ہے۔ پچھلے دس سالوں میں مودی حکومت کے خلاف اپوزیشن کا کردار پارلیمنٹ سے زیادہ سڑکوں پر ادا کیا گیا ہے۔ اور کچھ بھی ہو، ایک بات طے ہے کہ اس انتخابی نتیجے سے مودی حکومت کی ساتھ کو نقصان پہنچا ہے اور اس کے خوف میں گراوٹ آئی ہے۔ اس لیے یہ بات طے ہے کہ کسانوں کی بات ہو یا بے روزگار نوجوانوں کی، دلت برادری کی فکر ہو یا خواتین کی، سڑکوں پر عام لوگوں کی زندگیوں سے جڑے مسائل کو اٹھانے کا عمل پہلے سے زیادہ مضبوط ہوگا۔ اگر پارلیمانی اپوزیشن اور سڑکوں پر جاری احتجاج کے درمیان ہم آہنگی ہو تو یہ بھی ممکن ہے کہ یا تو حکومت کو کو عوام کے سامنے جھکنا پڑے گا یا پھر پانچ سال سے پہلے عوام کے سامنے پیش ہونا پڑے گا۔
(*مضمون نگار یوگیندر یادو سوراج انڈیا کے صدر، ماہر سماجیات اور انتخابی تجزیہ کار ہیں)

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل
خبریں

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

22 جولائی
اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل
خبریں

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

13 جولائی
Easy SIR Form Filing
خبریں

بھارت میں مسلم ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے نکالے جا رہے ہیں؟ UN کی رپورٹ میں بھارت کے SIR عمل پر سوالات

12 جولائی
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021

موجودہ دور میں مسلمان دل ودماغ جیتنے کی مہم چھیڑیں:امیر جماعت

فروری 28, 2023
حافظ قرآن کی عظمت اور ان کا مقام و مرتبہ

حافظ قرآن کی عظمت اور ان کا مقام و مرتبہ

مارچ 31, 2022
جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جولائی 22, 2026
جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

Easy SIR Form Filing

بھارت میں مسلم ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے نکالے جا رہے ہیں؟ UN کی رپورٹ میں بھارت کے SIR عمل پر سوالات

ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جولائی 22, 2026
اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

جولائی 13, 2026
Easy SIR Form Filing

بھارت میں مسلم ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے نکالے جا رہے ہیں؟ UN کی رپورٹ میں بھارت کے SIR عمل پر سوالات

جولائی 12, 2026
ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

جولائی 10, 2026

حالیہ خبریں

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جولائی 22, 2026
اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

جولائی 13, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN