مغربی کنارے: فلسطین اتھارٹی کے صدر محمود عباس پر بدھ کے روز جان لیوا حملہ ہوا۔ اطلاعات کے مطابق حملہ آوروں نے نے فلسطینی اتھارٹی صدر محمود عباس کے قافلے کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کرکے انہیں قتل کرنے کی کوشش کی ہے۔ میڈیا اطلاعات میں کہاگیا ہے کہ ‘سن آف عباس نامی تنظیم نے کو اسرائیل کے خلاف اعلان جنگ کے لیے 24 گھنٹے کا الٹی میٹم دیا تھااور عباس کو ایسا نہ کرنے کی صورت میں سنگین نتائج کی دھمکی بھی دی تھی۔ گزشتہ روز یہ ڈیڈ لائن ختم ہونے کے بعد عباس کے قافلے پر حملہ کیا گیا جس میں فلسطینی صدر بال بال بچ گئے۔ خبر کے مطابق ‘سن آف عباس ‘ نے فلسطینی صدر پر حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔اور قاتلانہ حملے کی ویڈیو منظر عام پر آگئی
ویڈیو میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ کس طرح ‘سن آف ابو جندل’ کے عسکریت پسند صدر عباس کے قافلے پر فائرنگ کر رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق کچھ مسلح افراد ایک گھر کے سامنے کھڑی گاڑی کے آس پاس موجود تھے۔ حملہ آوروں کی جانب سے چلائی گئی گولی کھلے میں موجود عباس کے ایک محافظ کو لگی جس کے بعد وہ زمین پر گر گیا۔ دریں اثنا، اسرائیلی فوج نے منگل کو کہا کہ اس کے فوجی اب غزہ شہر کے ‘اندرونی علاقوں’ میں حماس سے لڑ رہے ہیں، جس کے بعد جنگ میں مزید شدت آنے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔








