نئی دہلی:دہلی کی جامع مسجد کے شاہی امام مولاناسید احمد بخاری نے وزیر اعظم نریندر مودی سے جذباتی اپیل کی ہے کہ وہ غزہ جنگ کے خاتمے اور تنازع کا مستقل حل تلاش کرنے کے لیے اسرائیلی وزیر اعظم کے ساتھ سفارتی مداخلت کریں۔ بخاری نے کہا کہ مسلم دنیا اسرائیل فلسطین تنازعہ کو مؤثر طریقے سے ختم کرنے میں اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔
سید احمد بخاری نے مسئلہ فلسطین کو اقوام متحدہ، عرب لیگ اور خلیج تعاون کونسل کی قراردادوں کی بنیاد پر حل کرنے کی فوری ضرورت پر زور دیا۔ شاہی امام نے اسرائیل فلسطین مسئلہ پر دو ریاستی فارمولے کی بھی حمایت کی اور جلد از جلد حل کی وکالت کی۔ شاہی امام نے جنگ کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں اور انسانی بحران پر گہری تشویش کا اظہار کیا، جس میں فلسطینیوں کی ہلاکتوں کی تعداد 21,300 سے تجاوز کر گئی ہے۔ سید بخاری نے بین الاقوامی قراردادوں کے مطابق تنازعہ کا مستقل حل نکالنے کے لیے فوری اور موثر مداخلت کی اپیل۔
واضح ہوہندوستان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ایک مسودہ قرارداد کے حق میں ووٹ دیا تھاجس میں اسرائیل-حماس تنازعہ میں فوری انسانی بنیادوں پر جنگ بندی کے ساتھ ساتھ تمام یرغمالیوں کی غیر مشروط رہائی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ یہ خطے میں انسانی بحران سے نمٹنے اور اسرائیل-فلسطین تنازعہ میں امن اور استحکام کے مطالبے کی حمایت کرنے کے ہندوستان کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ مثال کے طور پر ہندوستان نے فلسطینیوں کی مدد کے لیے کروڑوں روپے کا عطیہ دیا ہے۔ ان کے علاوہ غزہ کے لوگوں کے لیے خوراک، پانی اور دیگر ضروری اشیاء بھی بھیجی گئی ہیں۔ بھارت اسرائیل فلسطین مسئلہ کے دو ریاستی فارمولے کا بھی حامی ہے۔









