جمعیتہ علما ۓ ہند کے فعال صدر اور زیرک مذہبی سیاستداں مولانا محمود مدنی ان دنوں پھر سرخیوں میں ہیں ،جمعیتہ کے 34ویں اجلاس عام میں خطاب کے دوران اسلام اور مسلمانوں کے حقوق.

پوزیشن،ہندوراشٹر،سنگھ سے تعلقات اور بی جے پی سے رشتے کے حوالہ سے کئی صاف اور تلخ باتیں کیں جو مین اسٹریممیڈیا کو چبھ گئیں۔ کبھی کبھی متنازع بیان بھی دینے والے مولانا مدنی ہندوستان میں مسلمانوں کے حقوق کی بات کرتے رہتے ہیں اور دہشت گردی کے لیے جہاد کی اصطلاح کے استعمال کی بھی مخالفت کرتے ہیں۔ مدنی نے اسلامو فوبیا کے خلاف بھی آواز اٹھائی ہے۔ وہ ہندوستان میں مسلمانوں کے ساتھ مذہب کی بنیاد پر امتیازی سلوک کی بھی مخالفت کرتے رہے ہیں۔بی بی سی ہندی نے ان سے مختلف ایشو پر گفتگو کی جس سے مولانا مدنی اور جمعیتہ کا نقطہ نظر کھل کر سامنے آتا ہے ۔اس انٹرویو کے بعض اہم اقتباسات استفادہ کے لیے قارئین کی نظر ہیں ۔
سوال: اگر آپ کی بات آر ایس ایس یا بی جے پی سے شروع ہوتی ہے تو کیا اس بات پر بھی غور کیا جائے گا کہ مستقبل میں آپ بی جے پی کو بھی سیاسی طور پر سپورٹ کر سکتے ہیں؟
جواب: میں ہمیشہ یہ کہتا رہا ہوں کہ مسلمانوں کو کسی بھی سیاسی جماعت کے لیے اپنے دروازے بند نہیں کرنے چاہیئں اور نہ ہی اس نیت سے کھڑے ہونا چاہیے کہ کسی بھی سیاسی جماعت کو کسی بھی قیمت پر شکست دینی ہے۔
سوال: آپ نے آر ایس ایس کو اپنی کانفرنس میں مدعو کیا ، اگر آر ایس ایس آپ سے بات کرنے کے لیے آگے آئے تو آپ کیا بات کریں گے؟
جواب: بات چیت کا ایک عمل پہلے سے جاری ہے، جیسا کہ ایک عمل شروع ہوا ہے، ہم نے پہلے ہی اس عمل کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ ہم اس کے ساتھ ہیں۔ اس جنرل اجلاس کے ذریعے ہمارے لیے یہ کہنا ضروری ہے کہ آر ایس ایس سے بات کرنے کا ایک عمل شروع ہوا ہے، پانچ لوگ سر سنگھ چالک سے بھی ملے ہیں، ہم اس عمل کی حمایت کر رہے ہیں۔ ہمارا اشارہ یہ ہے کہ ہم سنگھ سے بات کرنے کے لیے تیار ہیں۔
جواب: بات چیت کا ایک عمل پہلے سے جاری ہے، جیسا کہ ایک عمل شروع ہوا ہے، ہم نے پہلے ہی اس عمل کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ ہم اس کے ساتھ ہیں۔ اس جنرل اجلاس ان کے ذریعے ہمارے لیے یہ کہنا ضروری ہے کہ آر ایس ایس سے بات کرنے کا ایک عمل شروع ہوا ہے، پانچ لوگ سر سنگھ چالک سے بھی ملے ہیں، ہم اس عمل کی حمایت کر رہے ہیں۔ ہمارا اشارہ یہ ہے کہ ہم سنگھ سے بات کرنے کے لیے تیار ہیں۔
سوال: بھارت میں ہندو راشٹر کا مطالبہ زور پکڑتا جا رہا ہے، رام لیلا میدان سے ہندو راشٹر کا مطالبہ کئی بار اٹھ چکا ہے، اگر بھارت اس سمت جاتا ہے تو مسلمان خود کو کہاں دیکھتے ہیں؟
جواب: یہ ایک مشکل سوال ہے، تمام سوالات کا ایک ساتھ جواب دینا بھی مشکل ہے۔ ہمارا ماننا ہے کہ جو لوگ ہندوستان کو ہندوراشٹربنانے کی بات کرتے ہیں انہیں یہ بتانا چاہئے کہ ہندوستان کے ہندو اشٹر بننے کا کیا مطلب ہے، انہیں یہ بتانا چاہئے کہ اگر ہندوستان ہندو راشٹربن گیا تو کیا ہوگا اور کیا نہیں ہوگا،پھر ہم یہ بھی بتا سکیں گے۔ ہم کیا کریں گے اور کیا نہیں کریں گے۔








