نئی دہلی (آر کے بیورو): ہمارا ملک اکثریتی جمہوریت کی طرف بڑھ رہا ہے یہ ملک کی لبرل سوسائٹی اور جمہوریت کے مستقبل کے لئے خطرناک ہے -جماعت اسلامی ہند نے آج یہاں اپنی روایتی پریس کانفرنس میں ان خیالات کا اظہار کیا
پریس کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے نائب امیر جماعت سلیم انجینئیر نے یہ بات کہی ۔انہوں نےحالیہ پارلیمانی اجلاس میں بڑی تعداد میں اپوزیشن ممبران کی تعطلی کی طرف اشارہ کیا اور کہا کہ ایسے اقدامات فسطائی ذہنیت کی غماز ہے
انہوں نے ٹیلی کام ایکٹ کو پرائیویسی پر حملہ بتایا اور کہا کہ یہ قانون ذرائع ابلاغ کی آزادی کو ختم کردے گا۔
رام مندر پران پرتشٹھان پروگرام کے پس منظر میں انہوں نے کہا کہ اسے پالیٹیکل ایونٹ بنادیا گیا ہے یہ سیکولر ڈیموکریسی کے خلاف ہے ہمیں مندر تعمیر پر کچھ نہیں کہنا مگر اسے الیکشن کمپین بنانا اچھی علامت نہیں ہے ۔دلیل انجینئیر نے کہا کہ اس معاملہ کو حب الوطنی کی علامت بتانا اور سوسائٹی کو پولرائز کرنے کی کوشش کرنا قطعی مناسب نہیں -جماعت نے مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ کسی اکسانے میں نہ آئیں اور نہ مشتعل ہوں۔اور یہ امید کریں کہ 22جنوری کا پروگرام ملک کے اتحادویکجہتی کو نقصان نہ پہنچائے۔
متھرا ،کاشی کے حوالہ سے عدالتوں کے فیصلہ پر کہا کہ عبادت گاہ ایکٹ کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ اور ایسے روئیے سے عدالتوں پر اعتماد کمزور ہوجائےگا-
پریس کانفرنس میں ان کےعلاوہ جماعت اسلامی ہند کے سکریٹری محمد احمد بھی موجود تھے-
دریں اثنا پریس کانفرنس دہلی کے لٹینس زون میں واقع مسجد سنہری باغ معاملہ کے تعلق سے کئے گئے سوال کے جواب میں اسسٹنٹ سکریٹری جماعت انعام الرحمن نے بتایا کہ مقدمہ کی اگلی سماعت نو جنوری کو ہے اور امید ہے کہ قانونی سطح پر دلائل ہمارے حق میں ہونے کے سبب انشاءاللہ مسجد پر کوئی آنچ نہیں آئے گی اور فیصلہ ہم سب کے حق میں ہوگا انہوں نے کہا کہ قانونی معاملہ کو عوامی رنگ دینے کی این ڈی ایم سی کی کوشش افسوسناک ہے









