ساتحاد ملت کونسل کے بانی صدر اور نبیرہ اعلحضرت مولانا توقیر رضا نے ملک میں جاری کئی سلگتے ہوئے مسائل پر اپنی رائے دی ہے۔ ملک میں ہم آہنگی برقرار رکھنے کے لیے انہوں نے کہا ہے کہ جس طرح حکومت نے سمی پر پابندی لگا کر کارروائی کی ہے، اسی طرح بجرنگ دل اور وشو ہندو پریشد کے خلاف بھی کارروائی ہونی چاہیے۔tv9bharat کی خبر کے مطابق مولانا نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے کہ ملک میں جو ہندو مسلم ماحول بنایا جا رہا ہے وہ انتہائی خطرناک ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ مسلمانوں کے تئیں جو نفرت پھیل رہی ہے اس کے لیے مسلمان بھی ذمہ دار ہیں، آر ایس ایس یا بی جے پی نہیں۔ مولانا توقیر نے کہا کہ آج کا مسلمان غلط راستے پر چل رہا ہے، اسی لیے وہ نفرت کا شکار ہو رہا ہے۔ اس کے لیے کسی اور کو مورد الزام نہیں ٹھہرانا چاہیے۔
ٹی وی 9بھارت کے مطابق مولانا نے بحث کے دوران کہا کہ مسلمانوں پر مذہب کی تبدیلی کا الزام لگایا جاتا ہے، جب کہ ہندوؤں کو مسلمان بنانے کی کوئی مہم نہیں چلائی جا رہی ہے۔
جب مولانا توقیر سے غازی آباد میں آن لائن تبدیلی کے معاملے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے واضح کیا کہ بچوں کے کھیلوں کو بڑا ایشو بنانے کی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کوئی بچہ کسی بچے کو مسلمان نہیں بنا سکتا۔ بچے کو اس وقت تک مسلمان نہیں بنایا جا سکتا جب تک کہ بچے کے والدین کی رضامندی شامل نہ ہو۔ مولانا نے کہا کہ ان کے پاس اتنا پیسہ نہیں ہے کہ کسی کو پیسے کا لالچ دے کر مسلمان بنا سکیں۔
مولانا توقیر نے بحث کے دوران کہا کہ وشو ہندو پریشد اور بجرنگ دل کے لوگ ایک مہم چلا رہے ہیں اور مسلم لڑکیوں کو ورغلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔۔ مولانا نے کہا کہ یہ دونوں تنظیمیں کھلے فورم سے مسلم لڑکیوں کو’ گھر واپسی’ کو کہتے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ لو جہاد ایک جھوٹا الزام ہے لیکن ‘بھگوا لو ٹریپ’ ایک حقیقت ہے۔







