ضلع پولیس نے مظفر نگر میں کانورڑیاترا کے لیے ٹھوس انتظامات کیے تھے۔ اس کے باوجود یہاں کانوڑیوں کا ہنگامہ دیکھنے میں آیا ہے۔ چھپر تھانہ علاقے میں نیشنل ہائی وے-58 پر کانوڑیوں نے ایک گاڑی میں توڑ پھوڑ کی۔ یہی نہیں گاڑی کا ڈرائیور فرار ہونے کے لیے ڈھابے کی طرف بھاگا تو کنواریوں نے وہاں گھس کر اس کی پٹائی بھی کی۔
بتایا جا رہا ہے کہ سفر کے دوران کانوڑیوں نے الزام لگایا تھا کہ کار سے ٹکرانے کی وجہ سے کانوڑ ٹوٹ گیا ہے۔ اس کے بعد وہ گاڑی کے اوپر چڑھ گئے اور اس میں توڑ پھوڑ کی اور ہنگامہ آرائی کی۔ گاڑی میں توڑ پھوڑ کی ویڈیو بھی منظر عام پر آئی ہے، جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کانوڑیوں گاڑی کی چھت پر چڑھ کر لاتوں سے توڑ پھوڑ کر رہے ہیں، جس کی وجہ سے کار کی باڈی مکمل طور پر تباہ ہو گئی ہے۔
یہ واقعہ دہلی-دہرا دون نیشنل ہائی وے 58 پر مظفر نگر کے چھپر تھانہ علاقے میں پیش آیا، جہاں ہریدوار سے گنگا کا پانی لے کر اپنی منزل کی طرف جا رہے کچھ کانواڑیوں نے ایک کار سوار کی زبردست پٹائی کی۔ اس کے بعد گاڑی میں توڑ پھوڑ کرکے بلاک کرنے کی کوشش کی گئی۔ اس واقعہ کی اطلاع ملتے ہی سی او صدر راجو کمار ساہو پولس فورس کے ساتھ پہنچے اور معاملہ کو ختم کیا۔
پولیس کو اطلاع ملی تھی کہ لکشمی فوڈ پلازہ کے قریب کچھ کانوڑ کار کو روک کر اس میں سوار لوگوں کے ساتھ مارپیٹ کر رہے ہیں۔ جب پولیس یہاں پہنچی تو کانوڑیوں نے بتایا کہ تقریباً ڈیڑھ کلو میٹر پہلے ان کے گروپ کے ایک کانوڑکو ایک کار نے ٹکر مار دی تھی جس کے بعد انہوں نے کار کو اوورٹیک کیا اور لکشمی ڈھابہ کے قریب روک کر اس کی پٹائی کی۔ تاہم اس دوران کانوڑ یہ نہیں بتا سکے کہ کس کا کاوڑا ٹوٹا ہے۔ تاہم، آخر میں اس نے تصدیق کی کہ کانوڑ نہیں ٹوٹا اور وہ اپنی منزل کی طرف روانہ ہوگئے۔










