ممبئی :
شیوسینا کے رہنما سنجے راوت نے ہفتہ کو کہاہے کہ قومی سطح پر تمام اپوزیشن پارٹیوں کو ایک ساتھ لانے کا کام چل رہاہے اور یہ گٹھ بندھن کانگریس کے بغیر ادھورا ہے۔ راوت نے کہاکہ کانگریس اس گٹھ بندھن میں اہم رول ادا کرے گی جس کا مقصد موجودہ حکومت کے خلاف ایک مضبوط متبادل دینا ہے ۔
راوت کا یہ بیان چار روز قبل نئی دہلی میں نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) کے صدر شرد پوار کی رہائش گاہ پرترنمول کانگریس، سماج وادی پارٹی (ایس پی)، عام آدمی پارٹی (آپ)، راشٹریہ لوک دل ( آر ایل ڈے) اور بائیں بازو پارٹیوں سمیت آٹھ اپوزیشن پارٹیوں کے لیڈروں کی میٹنگ اور اس دوران ملک میں مختلف امور پر بحث کرنے کے بعد آیا ہے ۔
ایسی قیاس آرائیاں ہیں کہ میٹنگ کا ایجنڈہ ایسے ممکنہ اتحاد پر تبادلہ خیال کرنا تھا جو بھارتیہ جتنا پارٹی ( بی جے پی ) کا متبادل ہو، حالانکہ میٹنگ میں کانگریس کا کوئی لیڈر شامل نہیں تھا ۔ روات نے یہاں صحافیوں کو بتایا ’ تیسرا مورچہ یا دیگر مورچے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ شرد پوار نے پہلے ہی اسے واضح کردیا ہے ۔ اسی طرح شیوسینا نے ( پارٹی کااخبار ) سامنا کے ذریعہ ایسے ہی جذبات کو اہمیت دیا ہے ۔ میں نے بھی پڑھا ہے کہ کانگریس کی ایسے ہی سوچ ہے۔
انہوںنے کہاکہ گٹھ بندھن میں کانگریس اہم رول ادا کرے گی ۔ یہ موجودہ حکومت کے خلاف ایک مضبوط متبادل ہوگا ۔ تمام اپوزیشن پارٹیوں کو ایک ساتھ لانے کا کام جاری ہے ۔ جو کانگریس کوشامل کئے بغیر پورا نہیں ہوگا۔ شرد پوار نے جمعہ کو دعویٰ کیا تھا کہ ان کی صدارت میں ہوئی آٹھ پارٹیوں کی میٹنگ میں کسی بھی قومی اتحاد پر بحث نہیں ہوئی ہے اور کہا ہے کہ اگر ایسا کوئی گٹھ بندھن بنتا ہے تو اس کی قیادت کو ’اجتماعی‘ ہونا چاہئے۔
میٹنگ کے ایک دن بعد مہاراشٹرکانگریس کے صدر نانا پٹولے نے کہا تھا کہ ان کی پارٹی کے بغیر ’ بی جے پی مخالف مورچہ کی تشکیل کی کوئی بھی کوشش بالواسطہ طور سے بی جے پی کی مدد کرے گا۔‘ بی جے پی کا نام لئے بغیر راوت نے کہا ’ انل دیشمکھ کے خلاف انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی کارروائی مایوسی کی حالت میں سیاسی مخالفین کو نشانہ بنانے کی کارروائی ہے کیونکہ وہ ( بی جے پی) ریاست میں سرکار بنانے میںناکام رہا۔ شرد پوار نے بھی یہی بات کہی ہے۔
راجیہ سبھا ممبر راوت نے کہا کہ تفتیشی ایجنسیاں اہم معاملات میں تفتیش کرسکتی ہیں لیکن این سی پی ، شیوسینا اور کانگریس کو نشانہ بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ہم لوگ بھی دیکھیں گے ۔ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ ( ای ڈی) نے مہاراشٹر کے سابق وزیر داخلہ انل دیشمکھ کے خلاف منی لانڈرنگ کے ایک معاملے میں جمعہ کو ممبئی اور ناگپور واقع ان کی رہائش گاہ پر چھاپہ مارا ۔ ای ڈی نے اس تعلق سے دیشمکھ کے دو ساتھیوں کو گرفتار کیا ہے ۔










