لکھنؤ:نہ اوبی سی،نہ دلت نہ مسلمان بلکہ پنڈت جی کو اکھلیش یادو نے یوپی اسمبلی میں اپنا جانشین مقرر کیا ہے -اس طرح کئی دنوں سے جاری مختلف ناموں پر قیاس آرائیوں کا دور ختم ہوگیا
خبر کے مطابق سماج وادی پارٹی نے ماتا پرساد پانڈے کو اتر پردیش اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر بنایا ہے۔ اندرجیت سروج، رام اچل راج بھر اور طوفانی سروج بھی قائد حزب اختلاف کی دوڑ میں شامل تھے، لیکن ایس پی سربراہ اکھلیش یادو نے پوروانچل کے برہمن چہرے ماتا پرساد پانڈے کو اسمبلی میں اپنا جانشین بنایاہے۔
اس سے پہلے سماج وادی پارٹی نے اپنے ایم ایل اے کی میٹنگ بلائی تھی، جس میں ایم ایل اے نے یوپی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کے انتخاب کی ذمہ داری اپنے قومی صدر پر چھوڑ دی تھی۔ اکھلیش یادو نے سابق اسمبلی اسپیکر ماتا پرساد پانڈے کے نام پر حتمی مہر لگائی۔ اس کے علاوہ ایس پی کی جانب سے ایم ایل اے محبوب علی کو پریسیڈائنگ بورڈ ، کمال اختر کو چیف وہپ اور راکیش کمار عرف آر کے ورما کو ڈپٹی وہپ مقرر کیا گیا۔
ماتا پرساد پانڈے سدھارتھ نگر کی اٹوا سیٹ سے موجودہ ایم ایل اے ہیں۔ وہ دو بار اتر پردیش اسمبلی کے اسپیکر رہ چکے ہیں۔ ماتا پرساد پانڈے پیر یعنی کل سے ہی اپوزیشن لیڈر کی ذمہ داری سنبھالیں گے۔ کہا جا رہا تھا کہ اپنے پی ڈی اے فارمولے کے تحت اکھلیش یادو ایک پسماندہ طبقہ سے آنے والے چہرے کو اپوزیشن لیڈر کی ذمہ داری سونپیں گے۔ تاہم، انہوں نے ایک بار پھر پوروانچل سے آنے والے ماتا پرساد پانڈے کو ایک بڑی ذمہ داری سونپی ہے۔ ماتا پرساد کو اکھلیش کا قریبی سمجھا جاتا ہے۔










