اسرائیل کے وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ غزہ میں جنگ کے شدید مرحلے کے خاتمے کے ساتھ اسرائیلی فوجیوں کو لبنان کی سرحد پر بھیجا جائے گا، جب کہ امریکہ اور یورپ نے لبنان کی ایران یافتہ تنظیم حزب اللہ اور اسرائیل درمیاں لڑائی کی صورت میں جنگ کے پھیلنے کے امکان سے خبر دار کیا ہے۔یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ جوزپ بوریل نے لکسمبرگ میں کہا کہ جنگ چھڑنے کا خطرہ ہر روز بڑھتا جا رہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ’مجھے ایسا لگتا ہے کہ، بدقسمتی سے، ہم جنگ کے پھیلنے کے قریب ہیں‘۔
صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے زور دیا کہ غزہ میں جنگ بندی کی اشد ضرورت ہے تاکہ انسانی امداد کی فراہمی کو آسان بنایا جا سکے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ غزہ کے اندر انسانی امداد کی فراہمی ناممکن ہو گئی ہے۔
امریکہ کے اعلیٰ ترین فوجی عہدےدار نے خبردار کیا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی جارحیت سے ایک وسیع تر تنازعے کا خطرہ بڑھ جائے گا۔جوائنٹ چیفس آف سٹاف کے چیئرمین ایئر فورس جنرل چارلس کیو براؤن نے کہا کہ ایسی صورت میں ایران حزب اللہ کی مدد کے لیے مائل ہو گا۔
ان کا کہنا تھا کہ حزب اللہ کے پاس حماس سے زیادہ وسائل ہیں۔
اس سے قبل اسرائیل کے وزیرِ اعظم بن یامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ غزہ میں حماس کے خلاف لڑائی کا شدید مرحلہ بہت جلد ختم ہو جائے گا۔لبنان کی سرحد پر ایران نواز عسکریت پسند گروہ حزب اللہ اور اسرائیل کی فوج کے درمیان مسلسل سرحدی جھڑپوں کی رپورٹس سامنے آ رہی ہیں جس سے خطے میں جنگ پھیلنے کے خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔
بن یامین نیتن یاہو نے اسرائیلی نشریاتی ادارے ’چینل 14‘ کو انٹرویو میں بتایا کہ شمال کی طرف فوجیوں کی منتقلی حزب اللہ کے خلاف ملک کی دفاعی پوزیشن کو تقویت دے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ لبنان کے ساتھ سرحد پر مزید اہلکار منتقل کرنے سے جھڑپوں کے سبب سرحدی علاقوں سے نقل مکانی کرنے والے اسرائیلیوں کی واپسی کی راہ ہم وار ہوگی۔
نیتن یاہو رواں ہفتے واشنگٹن ڈی سی میں امریکی کانگریس کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کریں گے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ حزب اللہ کے ساتھ تنازعے کا سفارتی حل تلاش کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل بیک وقت کئی محاذوں پر لڑ سکتا ہے اور ہم اس کی تیاری بھی کر رہے ہیں۔(سورس:وائس آف امریکہ)









