اردو
हिन्दी
اگست 25, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

شبلی شناسی کی نئی جہات(علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ گزٹ کے حوالے سے)

1 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ فکر ونظر
A A
0
132
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

تجزیہ:پروفیسر اختر الواسع
علی گڑھ کی علمی فتوحات کے دروازے اگر سر سید نے کھولے تو اس میں علامہ شبلی نعمانی کا حصہ کچھ کم نہیں رہا۔ شبلی اور علی گڑھ کو جاننے کے لیے علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ گزٹ کے حوالے سے ’’شبلی شناسی کی نئی جہات‘‘ سامنے آتی ہیں اور اس کے لیے ہم سب کو پروفیسر اشتیاق احمد ظلی جو مدرسۃ الاصلاح اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے نامور علمی فرزندوں میں شامل ہیں جو کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ تاریخ میں پروفیسر کی حیثیت سے وظیفہ حسن خدمت پر سبکدوش ہوئے اور بعد ازاں دار المصنفین یعنی شبلی اکیڈمی اعظم گڑھ کے سربراہ بھی رہے پھر صحت کی خرابی کی وجہ سے انھوںنے شبلی اکیڈمی سے سبکدوشی اختیار کر لی لیکن علی گڑھ میں بیٹھ کر وہ خاموش نہ رہ سکے اور انھوں نے شبلی اور علی گڑھ کے رشتوں کی بازیافت کر ڈالی۔
سر سید سے علامہ شبلی پہلی مرتبہ ۱۸۸۱ میں اپنے والد شیخ حبیب اللہ کےساتھ اپنے چھوٹے بھائی مہدی حسن سے ملنے آئے جو ان دنوں ایم اے او کالج میں زیر تعلیم تھے۔ اس موقعہ پر انھوں نے سر سید سے ملاقات کی اور ان کی خدمت میں اپنا عربی قصیدہ پیش کیا جسے انھوں نے بہت پسند کیا اور اپنے نوٹ کے ساتھ اس کو علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ گزٹ کے ۱۵؍ اکتوبر ۱۸۸۱ کے شمارے میں شائع کیا۔ یہ سر سید اور شبلی کا پہلا تعارف تھا ۔ پروفیسر اشتیاق احمد ظلی کے بقول جن کے قران السعدین نے کالج کی روشن تاریخ میں نئے باب کا اضافہ کر دیا۔ اس کے دو برس بعد وہ دوبارہ ۱۸۸۳ میں بغرض ملازمت علی گڑھ آئے اور ۱۸۹۸ تک وہاں رہے۔ اگر چہ یہ کوئی بڑی مدت نہیں لیکن اپنے نتائج کے لحاظ سے یہ ایک تاریخ ساز واقعہ ثابت ہوا۔علامہ شبلی علی گڑھ نہ آتے تو بھی وہ پرانے انداز کے ایک بڑے عالم ہوتے لیکن وہ شبلی نہ ہوتے جس نے علم و تحقیق کے میدان میں انمٹ نقوش چھوڑے جس سے فکر و فن کی شاہراہ آج بھی روشن ہے اور کتنے ہی گم کردہ راہ قافلوں کو اپنی منزل کا نشان ملتا ہے۔
سفر و حضر میں سر سید ان کو اپنے ساتھ رکھتے تھے۔ چاہے کالج کے مالی وسائل کی فراہمی کے لیے حیدر آباد اور بھوپال کا سفر ہو یا نینی تال کا جو محض چند دن آرام کرنے کے لیے کیا گیا تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ حیدر آباد اور بھوپال کے وفد میں کئی ارکان شریک سفر تھے لیکن نینی تال کے خالص نجی اور ذاتی نوعیت کے سفر میں علامہ شبلی کے علاوہ کوئی اور نام نہیں ملتا۔ علامہ شبلی کی تعلیم و تربیت کا یہ فیضان تھا کہ ان کے تربیت یافتہ لوگوں میں جو جدید تعلیم یافتہ لوگوں کا گروہ تھا ان کی شناخت مغربی تعلیم نہیں تھی بلکہ اسلامی روایات اس طرح رچی بسی ہوئی تھیں کہ وہ مسٹر کے بجائے مولانا کہلائے اور مولانا کا لاحقہ ان کی پہچان اور شناخت بن گیا۔ بر صغیر کے مسلمانوں کی تاریخ میںشبلی کے ان شاگردوں میں مولانا محمد علی جوہر، مولانا شوکت علی اور مولانا ظفر علی خاں کے نام نامی  سر فہرست ہیں۔
سر سید نے شبلی کے ایم اے او کالج کی ملازمت کے دوران شہر میں ان کے قیام کو تکلیف دہ سمجھ کر انھیں سر سید ہاؤس کے قریب منتقل کر دیا جس نے ان کی زندگی کا رخ ہی بدل دیا۔ سر سید کی ذاتی لائبریری میں یورپ کی چھپی ہوئی کتابوں کا ایک نہایت قیمتی ذخیرہ موجود تھا، سر سید نے انھیں لائبریری کے استعمال کی عام اجازت دے رکھی تھی، وہ گھنٹوں اپنی پسند کی کتابوں کو الماریوں کے سامنے کھڑےکھڑے پڑھتے رہتے اور جب تھک جاتے تو فرش پر بیٹھ جاتے۔ جب سر سید نے ان کا یہ ذوق و شوق دیکھا تو وہاں ایک میز اور کرسی رکھوا دی تاکہ وہ وہاں بیٹھ کر مطالعہ کر سکیں اور ضروری نوٹس لے سکیں۔ پروفیسر اشتیاق احمد ظلی کے بقول اسی لائبریر ی نے ان کے عہد حاضر کے سب سے بڑے مسلمان مؤرخ ہونے کی راہ ہموار کی۔ سر سید اور شبلی دونوں کو تاریخ سے خصوصی لگاؤ تھا مگر ایک بنیادی فرق کے ساتھ بقول پروفیسر ظلّی سر سید کی دلچسپی ہندوستان کے عہد وسطیٰ کی تاریخ سے تھی چنانچہ ان کی جملہ تصنیفات اسی موضوع کے اردگرد گھومتی ہیں، علامہ شبلی کی بنیادی دلچسپی تاریخ اسلام سے تھی، انگریزوں کے ہاتھوں شکست، ناقابل بیان مظالم اور غلامی نے پوری قوم کو ایک پیچیدہ نفسیاتی کیفیت میں مبتلا کر دیا تھا۔شبلی اکیڈمی نے اپنے بانی کے اس کا م کو جاری رکھا اور بر صغیر کے مسلمانوں کے لیے فکری غذا فراہم کرنے کا ناقابل فراموش کارنامہ انجام دیا۔ یہ کام بلا شبہ ملک کا کوئی اور ادارہ نہیں کر سکتا۔
   ہم پروفیسر اشتیاق احمد ظلی کے شکر گزا ر ہیں کہ انھوں نے باوجود ناسازی طبع کے علامہ شبلی نعمانی اور علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ گزٹ کے حوالے سے جو بیش قیمت معلومات ہمیں فراہم کی ہیں وہ غیر معمولی ہیں۔ انھوں نے ندوہ سے شبلی کا جانا اور بابائے اردو مولوی عبد الحق اور ان کے ساتھیوں کی طرف سے شبلی کے خلاف جو تحریک چلائی گئی اس کا بھی انتہائی متانت اور ثقاہت کے ساتھ جس طرح تذکرہ کیا ہے وہ ہم سب کے لیے مشعل راہ ہے۔
(مضمون نگار جامعہ ملیہ اسلامیہ میں پروفیسر ایمریٹس شعبۂ اسلامک اسٹڈیز ہیں)

ٹیگ: aligerhinstitute gazatteallama shiblinews aspectshiblioligy

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

US Iran War Strategic Defeat News
مضامین

امریکہ – اسرائیل – ایران جنگ میں امریکہ کی اسٹریٹجک ہار پہلے سے طے

23 مارچ
Hormuz Strait Iran Speech
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
حافظ قرآن کی عظمت اور ان کا مقام و مرتبہ

حافظ قرآن کی عظمت اور ان کا مقام و مرتبہ

مارچ 31, 2022

موجودہ دور میں مسلمان دل ودماغ جیتنے کی مہم چھیڑیں:امیر جماعت

فروری 28, 2023
اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

مارچ 23, 2021
جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

Easy SIR Form Filing

بھارت میں مسلم ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے نکالے جا رہے ہیں؟ UN کی رپورٹ میں بھارت کے SIR عمل پر سوالات

ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جولائی 22, 2026
اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

جولائی 13, 2026
Easy SIR Form Filing

بھارت میں مسلم ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے نکالے جا رہے ہیں؟ UN کی رپورٹ میں بھارت کے SIR عمل پر سوالات

جولائی 12, 2026
ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

جولائی 10, 2026

حالیہ خبریں

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جولائی 22, 2026
اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

جولائی 13, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN