لکھنؤ : (ایجنسی)
یوگی حکومت لکھیم پور کھیری میں کسانوں کی موت اور گورکھپور میں ایک تاجر کے قتل پر اپوزیشن کے حملے کی زد میں آگئی ہے۔ سی ایم یوگی آدتیہ ناتھ نے گورکھپور میں تاجر کے اہل خانہ سے ملاقات کے بعد معاوضے کی یقین دہانی بھی کرائی تھی۔ اب یوگی حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے سابق آئی اے ایس سوریہ پرتاپ سنگھ نے بھی ٹویٹ کیا ہے ، جس میں انہوں نے چیف منسٹر پر طنز کرتے ہوئے لکھا کہ ان کی سرکار میں انصاف کی نئی تعریف آگئی ہے ۔
یوپی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے سابق آئی اے ایس سوریہ پرتاپ سنگھ نے لکھا ، ’یوگی حکومت میں انصاف کی نئی تعریف – موت کے بدلے معاوضہ۔یہ سہولت صرف ہندوؤں کے لیے ہے۔ ‘‘سوریہ پرتاپ سنگھ یہیں نہیں رکے ، انہوں نے اپنے ٹویٹ میں مزید لکھا ، ’’ معاوضہ بھی محض زبانی … زیادہ تر : وہ بھی کچھ ہائی لائٹیڈ معاملوں میں ہی ۔ ‘‘
سابق آئی اے ایس سوریہ پرتاپ سنگھ کے اس ٹویٹ کو لے کر سوشل میڈیا پر یوزر بھی خوب تبصرے کررہے ہیں۔ ایک یوزر نے ٹویٹ پر چٹکی لیتے ہوئے لکھا ،’’ معاوضہ بھی منھ زبانی ، بعد میں ٹائیں ٹائیں پھس ‘‘ پربھات پانڈے نام کے ایک یوزر نے لکھا :’’ بی جے پی کے وزیر پاگل ہوچکےہیں، کیا کیا بیان دے رہے ہیں ۔ ان کو کچھ سمجھ میں نہیں آرہا ہے ۔ ‘‘
اننت کمار نام کے یوزر نے سابق آئی اے ایس سوریہ پرتاپ سنگھ کے ٹویٹ کا جواب دیتے ہوئے لکھا ’ پہلے گولی ماریں گے، پھر کچھ پیسہ دےکر تمہیں خرید لیں گے۔ کیونکہ جان تو روپے میں بکنے لگی ہے۔ ‘‘ جمیل نام کےیوزر نے لکھا :’ ہندوؤں کو بھی معاوضہ صرف اس لئے کہ ا ن سے ووٹ لینا ہے ،ورنہ انسانوں کی لاشوں پر چڑھ کر اقتدار پر بیٹھنے والوں کو انسانوں کے مرنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔‘
بتادیں کہ سابق آئی اے ایس سوریہ پرتاپ سنگھ کے علاوہ فلم ساز ونود کپاری نے بھی کانپور کے منیش گپتا کے قتل پر سی ایم یوگی آدتیہ ناتھ کو نشانہ بنایا تھا۔ انہوں نے لکھا ، ’کانپور کے منیش گپتا کا قتل کرنے والے گورکھپور کے جگت نارائن سنگھ سمیت چھ پولیس والے اب تک گرفتار ہوئےیا نہیں؟ یا وہاں بھی جان کے بدلے معاوضہ دے کر سٹلمنٹ ہو گیا ہے۔










