اسرائیلی فورسز نے خان یونس کے علاقے میں پیر کی صبح ان نئے حملوں کا آغاز کیا تھا۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس علاقے سے عسکریت پسندوں نے دوبارہ اسرائیل پر راکٹ فائر کرنا شروع کر دیے تھے۔
غزہ میں عسکریت پسند تنظیم حماس کے زیر انتظام وزارت صحت کے مطابق گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران خان یونس میں ہلاک ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 55 ہو چکی ہے جبکہ پیر کی صبح سے اب تک ہلاک ہونے والوں کی تعداد کم از کم 121 بنتی ہے۔ ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تر تعداد خواتین اور بچوں کی بتائی جا رہی ہے۔
اسرائیل کی ان تازہ کارروائیوں کے نتیجے میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران تقریباً ڈیڑھ لاکھ فلسطینی اس علاقے سے رخصت ہونے پر مجبور ہوئے۔ ایک فلسطینی خاتون غدا اس جنگ کے دوران چھ بار اپنے خاندان کے ساتھ بے گھر ہو چکی ہے۔ ان کا نیوز ایجنسی روئٹرز کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا، ”ہم کہاں جائیں؟ کیا ہم سمندر میں چلے جائیں؟‘‘ ان کا مزید کہنا تھا، ”ہم تھک چکے ہیں، بھوکے ہیں اور چاہتے ہیں کہ جنگ اب ختم ہو، ایک گھنٹہ بعد بھی نہیں بلکہ ابھی اور فوراً ختم ہو۔‘‘
غزہ پٹی میں حماس کے زیر انتظام وزارت صحت کے مطابق جنگ شروع ہونے کے بعد سے اب تک کم از کم 39,145 افراد ہلاک اور 90,147 زخمی ہو چکے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تعداد خواتین اور بچوں کی تھی جبکہ قریب 10 ہزار فلسطینی ابھی تک لاپتا ہیں۔ اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق ملبے تلے دبے فلسطینیوں کی حقیقی تعداد بھی اب تک کے اندازوں سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔
سات اکتوبر کو جنوبی اسرائیل میں حماس کے ایک دہشت گردانہ حملے میں قریب بارہ سو اسرائیلی شہریوں کی ہلاکت کے بعد اسرائیل نے غزہ میں بڑی فضائی اور زمینی عسکری کارروائیوں کا آغاز کر دیا تھا۔ اسرائیلی فوج کی ان کارروائیوں کے نتیجے میں بڑی تعداد میں عام شہریوں کی ہلاکتوں اور غزہ میں شہری ڈھانچے کی بڑے پیمانے پر تباہی کے پیش نظر اسرائیل کو عالمی سطح پر تنقید کا سامنا ہے۔
نتین یاہو کا دورہ امریکہ اور فلسطینیوں کی طرف سے تنقید
خان یونس میں اسرائیل نے نئے حملوں کا آغاز ایک ایسے وقت پر کیا، جب اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو امریکہ کا دورہ کر رہے ہیں۔ ہلاک ہونے والے فلسطینیوں کے جنازوں میں شرکت کے لیے خان یونس کے ایک ہسپتال میں جمع ہونے والے کچھ فلسطینیوں نے نیتن یاہو کا استقبال کرنے پر اسرائیل کے سب سے اہم بین الاقوامی اتحادی امریکہ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔
وزیر اعظم نتین یاہو بدھ کے روز امریکی کانگریس سے خطاب کریں گے جبکہ جمعرات کو ان کی وائٹ ہاؤس میں صدر جو بائیڈن سے بھی ملاقات طے ہے۔ دوسری جانب ریپبلکن صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ بھی جمعے کو فلوریڈا میں نیتن یاہو سے ملاقات کریں گے۔










