غزہ سٹی سے جمعرات 27 جون کو ملنے والی مختلف خبر رساں اداروں کی رپورٹوں کے مطابق ان تازہ اسرائیلی فوجی حملوں میں کم از کم سات افراد کی ہلاکت اور درجنوں دیگر کے زخمی ہو جانے کی غزہ میں سول ڈیفنس فورسز کے ساتھ ساتھ فلسطینی میڈیا نے بھی تصدیق کر دی ہے۔
جرمن نیوز ایجنسی ڈی پی اے نے لکھا ہے کہ غزہ سٹی پر نئے اسرائیلی حملوں کی رپورٹوں کی غیر جانب دار ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی تاہم جب اسرائیلی فوجی ذرائع سے اس بارے میں سوال کیا گیا، تو انہوں نے ان اطلاعات کی تصدیق کرنے سے معذوری ظاہر
دوسری طرف ان حملوں سے پہلے اسرائیلی فوج نے غزہ سٹی کے مختلف علاقوں میں مقامی آبادی کو یہ حکم دیا تھا کہ وہ وہاں سے نکل جائے۔ ایسا اکثر اسی وقت کیا جاتا ہے، جب کسی فلسطینی علاقے میں اسرائیلی فورسز عنقریب ہی اپنی مسلح کارروائیاں کرنے والی ہوں۔
اس بارے میں اسرائیلی فوج کی طرف سے غزہ سٹی کے شجاعیہ اور چند دیگر حصوں کے مقامی باشندوں اور وہاں پناہ لینے والے بے گھر فلسطینیوں کے لیے عربی زبان میں ایک پیغام آج جمعرات ہی کے روز اسرائیلی فوج کے ترجمان کی طرف سے جاری کیا گیا تھا۔
غزہ پٹی کی حماس کے زیر انتظام کام کرنے والی وزارت صحت کے مطابق گزشتہ برس سات اکتوبر سے جاری غزہ کی جنگ میں اس خطے میں اب تک ہونے والی انسانی ہلاکتوں کی مجموعی تعداد مزید بڑھ کر کم از کم بھی 37,765 ہو گئی ہے، جن میں بہت بڑی تعداد خواتین اور بچوں کی تھی۔
اس کے علاوہ غزہ پٹی میں ساڑھے نو ماہ سے بھی زیادہ عرصے سے جاری اس جنگ میں اب تک غزہ کی وزارت صحت کے مطابق 86,429 افراد زخمی بھی ہو چکے ہیں۔
غزہ کی جنگ پچھلے سال سات اکتوبر کو جنوبیاسرائیل میں حماس کے جنگجوؤں کے اس دہشت گردانہ حملے کے ساتھ شروع ہوئی تھی، جس میں تقریباﹰ 1200 افراد مارے گئے تھے اور واپس غزہ جاتے ہوئے حماس کے جنگجو تقریباﹰ ڈھائی سو افراد کو یرغمال بنا کر اپنے ساتھ بھی لے گئے تھے۔ ان اسرائیلی یرغمالیوں کی ایک بڑی تعداد اب بھی غزہ پٹی کے علاقے میں حماس کے قبضے میں ہے۔









