مزاحمت کاروں کی جانب سے اسرائیل پر راکٹوں کی تازہ بوچھاڑ کے بعد اسرائیلی افواج نے بدھ کے روز شمالی غزہ کے ان علاقوں میں موجود فلسطینیوں کو انخلاء کے نئے احکامات جاری کیے ہیں جو اکتوبر میں حماس کے ساتھ جنگ شروع ہونے کے بعد سب سے پہلے متأثر ہوئے تھے۔
فوج کے ترجمان افیخے ادرعی نے بیت حانون اور بیت لاہیا کے متعدد اضلاع کے لیے انخلاء کے احکامات جاری کیے جو اب بڑے پیمانے پر مسمار کردہ دو قصبات ہیں جہاں اسرائیلی ٹینکوں نے زمینی حملے کے آغاز میں یلغار کی تھی۔
ادرعی نے فلسطینی باشندوں کو ٹیکسٹ یا سوشل میڈیا کے ذریعے ارسال کردہ پیغام میں کہا، "حماس اور دہشت گرد تنظیمیں آپ کے علاقے سے اسرائیل کی طرف راکٹ داغ رہی ہیں۔ دفاعی افواج ان کے خلاف زوردار اور فوری طور پر کارروائی کریں گی۔”
فوج کے ترجمان نے کہا، "اپنی حفاظت کے لیے فوراً علاقے خالی کر کے غزہ شہر کے وسط میں واقع معلوم پناہ گاہوں کی طرف چلے جائیں۔”
طبی ماہرین نے بتایا کہ غزہ شہر کے ایک قریبی محلے التفاح میں ایک گھر پر اسرائیلی فضائی حملے میں تین فلسطینی مارے گئے۔
غزہ کی پٹی میں لڑائی جاری ہے حالانکہ اسرائیل اپنے شمال میں ایران اور اس کے قریبی لبنانی اتحادی حزب اللہ کے حملے کے لیے تیار ہے جو 31 جولائی کو ایرانی دارالحکومت تہران میں حماس کے رہنما اسماعیل ہنیہ کے قتل کے بعد متوقع ہے۔
اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ اس نے حالیہ دنوں میں غزہ میں درجنوں مزاحمت کار ہلاک کیے ہیں اور بدھ کے روز کہا تھا کہ فوجیوں نے وسطی غزہ کے پرہجوم ضلع دیر البلح میں ہتھیار بنانے والی تنصیبات کو نشانہ بنایا تھا۔ یہاں لڑائی سے بے گھر ہونے والے دسیوں ہزار فلسطینیوں نے پناہ لے رکھی ہے۔
دیگر مرکزی علاقوں میں اسرائیلی ٹینکوں نے غزہ کی پٹی کے آٹھ تاریخی پناہ گزین کیمپوں میں سے دو نصیرات اور البریج پر گولہ باری کی۔ اسرائیل کہتا ہے کہ حماس کے مزاحمت کار اپنی کاررائیوں کے ٹھکانوں اور ہتھیاروں کے ذخائر کو چھپانے کے لیے شہریوں کے بنیادی ڈھانچے کو استعمال کرتے ہیں۔ حماس اس کی تردید کرتی ہے۔
مزاحمت کار کہتے ہیں کہ وہ دھماکہ خیز آلات کے ساتھ اسرائیلی فوجیوں اور بکتر بند گاڑیوں پر گھات لگا کر حملے جاری رکھے ہوئے ہیں اور بدستور اسرائیل میں راکٹوں کی محدود بوچھاڑ داغنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔
منگل کے روز حماس کے قریبی اتحادی اسلامی جہاد نے کہا کہ اس نے اسرائیل کے "شہریوں کے قتلِ عام” کے جواب میں راکٹ فائر کیے ہیں۔










