پٹنہ: نامہ نگار بہار میں جنتا دل یونائیٹڈ (جے ڈی یو) اور بی جے پی کا اتحاد ٹوٹ گیا ہے۔ جنتا دل یونائیٹڈ خاص کر وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے اس کی کئی وجوہات بتائی ہیں۔ میٹنگز اور دھرنا دینے کا دور جیسا کہ بی جے پی میں ہوتا ہے چل رہا ہے، لیکن بی جے پی کے بیشتر لیڈروں کا خیال ہے کہ ان کی پارٹی کے کم از کم نصف درجن لیڈروں کی وجہ سے نتیش ایک بار پھر راشٹریہ جنتا دل کے ساتھ جانے پر مجبور ہوئے۔
. ان تمام لیڈروں کے ناموں پر بی جے پی میں کھل کر بحث ہو رہی ہے۔ ان میں بھوپیندریادو،ڈاکٹر سنجے جیسوال،نتیانند راۓ،وجے کمار سنہا اور وزیرداخلہ امت شاہ کا نام لیاجارہاہے امت شاہ کو چھوڑکر باقی سب کا تعلق بہار سے ہی ہے ۔حالانکہ میڈیا کے ذریعہ مودی ،امت شاہ کے نام کا کوی تذکرہ نہیں ہے لیکن این ڈی ٹی وی کی رپورٹ میں امت شاہ کے رول پر بھی تبصرہ کیا گیا ہے اس کے مطابق مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کی ذمہ داری بھی اس لیے بنتی ہے کہ پوری پارٹی نے بہار بی جے پی میں جو نئے تجربات کیے تھے،نتیش کو کھوکر اس کا خمیازہ بھگت لیا۔ جیسے انہوں نے چراغ پاسوان کے ذریعے نتیش کمار کے ایم ایل ایز کی تعداد کم کرنے کا انوکھا طریقہ ڈھونڈا، لیکن نتیش اس سے اتنے بے چین تھے کہ چراغ کے رول کا بار بار تذکرہ کرکے سب کو فارمولہ یاد دلاتے ہیں۔ دوسرا، اس نے بہار کے مضبوط زمینی لیڈروں جیسے سشیل مودی، نند کشور یادو اور پریم کمار کو ایک طرف کر دیا اور ترکیشور پرساد، رینو دیوی کو حکومت میں نائب وزیر اعلیٰ بنایا، جن کی ایم ایل اے نے نہیں سنی۔
بہار بی جے پی کا ہر فیصلہ ان کی مرضی سے ہوا، جس میں کافی وقت لگا۔ اس کے علاوہ 200 اسمبلیوں میں پرواس کا پروگرام چلا، جس کی وجہ سے نتیش کافی ناراض تھے۔ بہار بی جے پی میں جو بھی نیا کیا، نتیجہ اس کے برعکس رہا۔نتیش مہاراشٹر میں بی جے کے کھیلا سے الرٹ ہوگیے وہاں ادھو کے ساتھ جو ہوا اس میں انہیں اپنی تصویر نظرآنے لگی بہار میں سشیل مودی کے مرکز چلے جانے کے بعد کوی ایسا لیڈر نہیں تھا جس سے وہ رابطہ کرسکتے پھر امت شاہ کی لگاتاردخل اندازی اور بڑھتے عمل دخل نے ان کی چھٹی حس کو ہمیشہ بیدار رکھا اور اس کا نتیجہ نتیش کے پالا بدلنے پرنکلا آپ امت شاہ کیا کریں گے اسپر سب کی نظر ہوگی ۔








