نئی دہلی: (ایجنسی)
مرکزی وزیر نتیا نند رائے نے لوک سبھا کو بتایا کہ مرکز ابھی تک ملک بھر میں نیشنل رجسٹر آف انڈین سٹیزن (این آر سی) کی تیاری کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔
ایوان زیریں میں ایک سوال کے تحریری جواب میں، وزیر مملکت برائے داخلہ نتیانند رائے نے کہا کہ آسام کے لیے این آر سی 31 اگست 2019 کو سپریم کورٹ کی ہدایت پر ضمنی فہرست میں شامل کرنے اور خارج کرنے کے حوالے سے شائع کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے ابھی تک شہریوں کے قومی رجسٹر کی تیاری کے حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔
واضح رہے کہ آسام کے شہریوں کی حتمی فہرست یعنی اپ ڈیٹ شدہ این آر سی 31 اگست 2019 کو جاری کی گئی تھی ، جس میں 31,121,004لوگوں کو شامل کیا گیا تھا، جبکہ 1,906,657لوگوں کو اس کے اہل نہیں مانا گیا تھا۔ اس کے بعد پوری ریاست میں سیاسی ہلچل مچ گئی تھی۔
بتا دیں کہ اس سے قبل مارچ 2021 اور اگست 2021 میں بھی مرکزی حکومت نے پارلیمنٹ میں کہا تھا کہ ملک بھر میں NRC پر ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں لیا گیا ہے۔
مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ نتیانند رائے نے راجیہ سبھا میں کہا تھا کہ اب تک حکومت نے ہندوستانی شہریوں کے قومی رجسٹر کو تیار کرنے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔ اس سے قبل 3 فروری 2021 کو وزارت داخلہ نے ایک پارلیمانی کمیٹی کو بتایا تھا کہ مرکز نے ملک بھر میں نیشنل رجسٹر آف سٹیزنز (این آر سی) کے نفاذ سے متعلق کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔
وزارت نے کانگریس لیڈر آنند شرما کی سربراہی میں قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کو بتایا تھا،’حکومت میں مختلف سطحوں سے وقتاً فوقتاً یہ واضح کیا جاتا رہا ہے کہ ہندوستانی شہریوں کا قومی رجسٹر بنانے کا فی الحال کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔‘










