وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن آج مودی حکومت 3.0 کا پہلا بجٹ پیش کر رہی ہیں۔ اس بجٹ میں آندھرا پردیش اور بہار کے لیے خزانے کھولے گئے ہیں۔ روزگار اور ہنر کی ترقی کے لیے 2 لاکھ کروڑ روپے کی 5 اسکیموں کا اعلان کیا
اپنی بجٹ تقریر میں نرملا سیتا رمن نے کہا، ‘ہندوستان کی معیشت کی ترقی مسلسل شاندار ہے۔ ہندوستان کی افراط زر مستحکم ہے جو کہ 4 فیصد کے ہدف کی طرف ہے۔
وزیر خزانہ نے کہا ہے کہ غریبوں، نوجوانوں، خواتین، کسانوں جیسے اہم طبقات پر توجہ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ روزگار،، متوسط طبقے پر مسلسل توجہ دی جا رہی وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے انکم ٹیکس سلیب میں بڑی تبدیلیوں کا اعلان کیا ہے۔ اب معیاری کٹوتی کی حد 50 ہزار روپے سے بڑھا کر 75 ہزار روپے کر دی گئی ہے۔ اس نظام میں 3 لاکھ روپے تک کی آمدنی پر کوئی ٹیکس نہیں ہوگا۔ 3 سے 7 لاکھ روپے کی آمدنی پر 5 فیصد انکم ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔ اگر آمدنی 7 سے 10 لاکھ روپے ہے تو 10 فیصد کی شرح سے انکم ٹیکس وصول کیا جائے گا۔ 10 سے 12 لاکھ روپے تک قابل ٹیکس آمدنی پر 15 فیصد کی شرح سے انکم ٹیکس عائد کیا جائے گا۔ 12 سے 15 لاکھ روپے تک قابل ٹیکس آمدنی پر 20 فیصد انکم ٹیکس عائد کیا جائے گا۔ 15 لاکھ روپے سے زائد کی قابل ٹیکس آمدنی پر 30 فیصد کی شرح سے انکم ٹیکس عائد کیا جائے گا۔
نئے ٹیکس نظام کے تحت:
3 لاکھ روپے تک – کوئی ٹیکس نہیں۔
3-7 لاکھ روپے تک – 5% ٹیکس
7-10 لاکھ روپے تک – 10% ٹیکس
10-12 لاکھ روپے تک – 15% ٹیکس
12-15 لاکھ روپے تک – 20% ٹیکس
15 لاکھ روپے سے اوپر – 30٪ ٹیکس
پرانے ٹیکس نظام میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔
بجٹ میں ایم ایس ایم ای اور مینوفیکچرنگ پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ MSMEs کو تناؤ کے دور میں بینک کریڈٹ جاری رکھنے کے لیے بجٹ میں نئے انتظامات کا اعلان کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی مدرا لون کی حد 10 لاکھ روپے سے بڑھا کر 20 لاکھ روپے کر دی گئی ہے۔










