آل انڈیا ہندو مہاسبھا نے یوپی کے آگرہ میں تاریخی یادگار تاج محل میں شروع ہونے والے شاہجہاں کے عرس کی مخالفت کی ہے۔ ہندو مہاسبھا کے کارکنان نے تاج محل کے پہلو میں جاکر جلبھیشیک کیا شیو چالیسہ بھی پڑھا گیا۔ احتجاج کرنے والے کارکنوں کا کہنا تھا کہ جب تاج محل میں کسی بھی قسم کی مذہبی تقریب پر پابندی ہے تو پھر یہاں شاہجہاں کا عرس کس کی اجازت سے منعقد کیا جا رہا ہے۔
اس سلسلے میں ہندو مہاسبھا نے شاہجہاں کے عرس کو روکنے کے لیے آگرہ کی عدالت میں مقدمہ بھی دائر کیا ہے۔ اس کی سماعت 4 مارچ کو ہونی ہے۔ آل انڈیا ہندو مہاسبھا کے ضلع صدر سوربھ شرما نے کہا کہ ہم عرس کی مسلسل مخالفت کر رہے ہیں۔ ہم پہلے ہی محکمہ آثار قدیمہ کو ایک میمورنڈم دے چکے ہیں۔ انتظامیہ سے کئی بار درخواست بھی کی ہے۔ سماعت نہ ہونے کی وجہ سے عدالت میں مقدمہ دائر کر دیا گیا ہے۔ عدالت نے عرس کمیٹی کو بھی نوٹس جاری کر دیئے ہیں۔ نوٹس کے بعد بھی عرس منایا جا رہا ہے۔ اگر عرس کا پروگرام ہوگا تو ہم بھگوان رام کی اولاد ہیں شیو تانڈو کریں گے۔
واضح ہو مغل بادشاہ شاہجہاں کا 369 واں عرس منگل سےتاج محل میں منایا جا رہا ہے۔ تین روزہ عرس میں مختلف رسومات ادا کی جاتی ہیں۔ عرس میں غسل، سندیل اور چادرپوشی کی رسومات ہوتی ہیں۔ اس کے علاوہ قوالی اور مشاعرہ بھی ہوتا ہے۔ گراؤنڈ فلور پر واقع شاہجہان اور ممتاز کے مقبروں تک رسائی کے لیے سال میں صرف ایک بار دروازے کھولے جاتے ہیں۔
عام سیاح بھی تین دن تک حقیقی قبروں کو دیکھ سکتے ہیں۔ تاج محل میں داخلہ 6 اور 7 فروری کو دوپہر 2 بجے کے بعد سب کے لیے مفت ہوگا۔ عرس کے آخری دن 8 فروری کو پورے دن کے لیے داخلہ مفت رہے گا۔
گزشتہ منگل کو جب شاہجہاں کا عرس پہلے دن غسل کی رسم سے شروع ہوا تو ہندو تنظیموں کے لوگوں نے اس کے خلاف احتجاج شروع کر دیا۔ تقریباً نصف درجن لوگ تاج محل کے پہلو میں مہتاب باغ پہنچے، جہاں انہوں نے بھگوان شیو کی تصویر کے سامنے جلبھیشیک کیا اور شیو چالیسہ کا پاٹھ کیا۔








