مبینہ گئو رکھشکوں کے ہاتھوں بے رحمانہ قتل کی رپورٹنگ اور احتجاج سرکار کو پسند نہیں آیا۔ مکتوب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق متوفی کے لواحقین، ایک صحافی جس نے اس واقعے کی رپورٹنگ کی اور راجستھان کے بھرت پور میں ایک درجن مقامی باشندوں کو جنید اور ناصر کے لیے انصاف کی خاطر احتجاج کرنے پر نوٹس بھیجے گئے ہیں، ۔
خبر کے مطابق سب ڈویژنل مجسٹریٹ نے سیکشن 107 کے تحت نوٹس جاری کیا، جو حکام کو ان لوگوں کے خلاف احتیاطی کارروائی کرنے کی اجازت دیتا ہے جو ممکنہ طور پر عوامی امن کو خراب کر سکتے ہیں۔
جنید کے خاندان کے ایک رکن حافظ جابر جو دھرنے پر گاؤں والوں کے ساتھ بیٹھے ہیں نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ موہت عرف مونو مانیسر کو دفعہ 302 کے تحت گرفتار کرے اگر وہ قتل کے سلسلے میں کسی کو پکڑنا چاہتے ہیں۔
’’میرے خلاف نوٹس جاری کیا گیا ہے۔ میں حکومت سے کہنا چاہتا ہوں کہ اس قتل کیس میں کسی کو گرفتار کرنا ہے تو موہت عرف مونو مانیسر کو دفعہ 302 کے تحت گرفتار کریں۔ وہ میرے بھائی کا قاتل ہے۔’
مقامی میڈیا آؤٹ لیٹ justAj کے ایڈیٹر وسیم اکرم کو بھی ایک نوٹس موصول ہوا ان کا کہنا ہے کہ’’میں مسلسل اس احتجاج کی کوریج دنیا کو دکھا رہا ہوں۔ آج میڈیا والوں کو آواز اٹھانے سے ڈرایا جا رہا ہے جو جمہوریت کے لیے خطرہ ہے۔
جن 12 افراد کو نوٹس جاری کیا گیا ہے ان میں حنیف مولانا، جابر گھٹمیکا، مختار احمد، فخر الدین ماسٹر، کامل، وسیم اکرم، نثار احمد، اثار احمد، صدام حسین، چاند، رہیس اور صدام شامل ہیں۔








