نئی دہلی :(ایجنسی)
جہانگیر پوری تشدد کے بعد علاقے میں بلڈوزر چلانے پر اپوزیشن کے نشانے پر آئی بی جے پی اب دہلی کے ہر کونے کونے میں بلڈوزر چلانے جارہی ہے۔ بی جے پی کی قیادت والی ایم سی ڈی کے تمام اداروں نے مل کر دہلی سے تجاوزات ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں جمعہ کو جنوبی اور مشرقی دہلی کے میونسپل افسران کی میٹنگ ہوئی۔ جنوبی دہلی میونسپل کارپوریشن کے میئر مکیش سورین نے کہا کہ سرکاری زمین پر بے قاعدہ تعمیرات کو منہدم کردیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکام اس سلسلے میں علاقے کا سروے کر رہے ہیں اور پیر تک فہرست تیار ہو جائے گی۔ جنوبی اور مشرقی دہلی میونسپل کارپوریشنوں نے مل کر ان جگہوں کی نشاندہی کرنا شروع کر دی ہے جو تجاوزات کے تحت آتے ہیں اور انہیں مسمار کیا جانا ہے۔
غور طلب ہے کہ حال ہی میں دہلی یونٹ کے بی جے پی کے صدر آدیش گپتا نے دونوں کارپوریشنوں کے میئروں کو خط لکھا تھا کہ وہ اپنے علاقے میں غیر قانونی تعمیرات کرنے والے روہنگیا اور بنگلہ دیشیوں کی دکانوں کو ہٹا دیں۔ جب مکیش سورین سے پوچھا گیا کہ کیا شاہین باغ اور اوکھلا جیسی حساس جگہوں سے تجاوزات ہٹائی جائیں گی تو انہوں نے کہا کہ ہر جگہ سے تجاوزات ہٹا دی جائیں گی۔
دوسری جانب مشرقی دہلی میونسپل کارپوریشن کے میئر شیام سندر اگروال نے کہا کہ تجاوزات کی وجہ سے کئی علاقوں میں سنگین مسائل پیدا ہوگئے ہیں۔ جس کی وجہ سے ٹریفک جام ہے۔ انہوں نے کہا کہ جن علاقوں سے تجاوزات ہٹائی جائیں گی ان میں نند نگری، جعفرآباد اور سیلم پور شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تجاوزات ہٹانے کی کارروائی سے ایک دن پہلے لاؤڈ اسپیکر کے ذریعے لوگوں کو بتایا جائے گا کہ کب اس علاقے میں تجاوزات ہٹانی ہیں۔










