اردو
हिन्दी
جولائی 13, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

اب اشوک کے ساتھ اورنگ زیب کی یاد کیوں؟

4 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ فکر ونظر, مضامین
A A
0
اب اشوک کے ساتھ اورنگ زیب کی یاد کیوں؟
143
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

تحریر:اپوروانند

تاریخ کے بھوت کو جگایا جا رہا ہے۔ اورنگ زیب عالمگیر کو تو سونے تک نہیں دیا گیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ اسے بار بار میدان جنگ میں گھسیٹتے چلے آئے ہیں۔ وہ اورنگزیب کو اس وقت بھی چاہتے تھے جب وہ اقتدار سے باہر تھے اور اب جب وہ اقتدار میں ہیں۔ پچھلے ایک یا دو مہینوں میں انہیں کتنی بار میدان میں اتارا گیا ہے اس کی گنتی کرنا مشکل ہے۔ ان کی مٹی ان کے ملک کی خاک بن گئی ہے لیکن بی جے پی اور سنگھ ہر بار انہیں پر وار کرنےکے لیے انہیں بار بار زندہ رکھتے ہیں۔

لیکن جیسا کہ ہم نے کہا، بی جے پی کو بعد از مرگ اورنگزیب کی ضرورت ہے۔ اور وہ ایک ایسی جنگ میں ہے جس میں مقابلہ کرنے کو وہ خود موجود نہیں ہے۔

وہ اس میدان جنگ کا عادی رہا ہے جس میں تلواروں سے تلواریں ٹکراتی تھیں۔ لیکن کیا وہ صرف جنگ ہی کرتا تھا؟ اس نے آخرکار حکومت بھی کی تھی! اور حکومت صرف جنگوں کا سلسلہ نہیں تھی۔ لیکن یہ اورنگ زیب بی جے پی کے لیے کسی کام کا نہیں ہے۔ اس اورنگ زیب کی انہیں کوئی ضرورت نہیں۔

وہ اورنگ زیب تاریخ سے تعلق رکھتا ہے۔ اور یہ مورخین کے لیے دلچسپی کا باعث ہے۔ اور وہ اس دور کے ہر حکمران کی طرح ایک پیچیدہ اور متزلزل شخصیت کا مالک ہے۔ اس کے فیصلے اور اعمال ایک دوسرے سے متصادم نظر آتے ہیں۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک ہی حکمران ہو جس نے ایک طرف مندروں کو تباہ کیا ہو اور دوسری طرف مندروں کو زمین اور پیسہ دے رہا ہو اور برہمنوں کو بھی! وہ ’ہندی‘ میں ایک نظم لکھ رہا ہوجس میں برہما، وشنو اورمہیش سےآشیرواد بھی مانگ رہاہو!

مورخ کامشق ان تہوں کو سمجھنا ہے، جو ایک دوسرے میں پیوست ہیں۔ ہربنس مکھیا نے بجا لکھا ہے کہ حکمرانوں کی حکمرانی کو سمجھنے کے لیے ان پر مذہبی، ثقافتی، سیاسی، معاشی، انتظامی دباؤ اور ان کے ساتھ ان کے کشیدہ تعلقات کو سمجھنا ہوگا۔ یہ کبھی مستحکم نہیں ہوتا تھا۔

اس لیے مورخ جج نہیں ہوتے۔ اور تاریخ کے کردار ایک طرح سے کہانیوں کے کردار ہیں۔ قصے دوسروں کے ہوتے ہیں۔ توبغیر ان قصوں کو معلوم کئے آپ اس کےبناء کردار کو کیسے جان سمجھ سکتے ہیں۔

کہانی کا بھی ایک قصہ ہوتا ہے اور اس کی زندگی ایک سے زیادہ ہوتی ہے۔ جیسا کہ رومیلا تھاپر نے شکنتلا کی کہانی کے بارے میں بتایا۔ یا سومناتھ کے۔ یا نیان جوت لہری نے اشوکا کےبارے میں یا شیواجی کے بارے میں جیمس لین نے لکھا جیسا دیکھا گیا ہے لوگوںکو سپاٹ کردار چاہئے۔ ویسے نہیں جن میں پیچیدگیاں ہوں۔ پیچیدگی سے وہ حیران اور ناراض ہو اٹھتے ہیں۔

یہ تقریباً ہر کسی کے لیے سچ ہے۔ جیسا کہ کروساوا نے روشمن میں بتایا ، واقعہ پیش آتے ہیں ایک نہیں کئی قصوں میں بدل جاتی ہے جس میں کون مستند ہے ، یہ تعین کرنا بہت مشکل ہوتاہے۔ جو بھی ہو اورنگ زیب کو بعد از مرگ زندگی کے معاملے میں دوسرے حکمرانوں کے مقابلے لمبی عمر ملی ہے، باقی حکمران جو انتقال کر گئے، ان کو اورنگ زیب کا شکریہ ادا کرنا چاہیے کہ اس کے بہانے یاد رکھے جاتے ہیں۔ شیواجی کو ہی کون یاد کرتا ہے؟ گرو تیغ بہادر یا گرو گوبند سنگھ یا صاحبزادوں کی یاد بی جے پی کو کیونکر آتی اگر اورنگ زیب نہ ہوتا۔

اورنگزیب اکیلا نہیں ہے۔ رانا پرتاپ کو بھی اکبر کی وجہ سے یاد کیا جاتا ہے۔ اور سنگھ بھی بابر کی وجہ سے گرو نانک کو یاد کرتا ہے۔ سکھ بھی چونک جاتے ہیں لیکن سنگھ کو کون روک سکتا ہے؟

مہنگا پڑا موازنہ

لیکن فی الحال سمراٹ اشوک کو اورنگ زیب کا شکریہ ادا کرنا ہوگا کہ ان کا دوبارہ خیال رکھا جا رہا ہے کیونکہ بی جے پی اور سنگھ کے عزیز ایک ڈرامہ نگار نے اس عظیم حکمران کا اورنگ زیب سے موازنہ کیا ہے۔ مصنف کا خیال ہے کہ اشوک کی ابتدائی زندگی اورنگ زیب کی طرح ظالمانہ تھی۔ اور بعد میں دونوں مذہبی بن گئے تاکہ لوگوں کی توجہ ان کے خوفناک ماضی سے ہٹائی جا سکے اور انہیں ان کی نیکی کے لیے یاد رکھا جائے۔ لیکن یہ موازنہ ڈرامہ نگار کو مہنگا پڑ رہا ہے۔

کہاں اشوک اور کہاں اورنگ زیب! یہ کسی حد تک توہین ایشور کی طرح ہے۔ اشوک کی توہین ہے۔ بے چارے ادیب پر اس جرم کی وجہ سے ان کی پارٹی کے لیڈروں نے ایف آئی آر درج کرادی!

لیکن اس سے ان کو چھٹی مل جائے،یہ اتنا بھی آسان نہیں! الزام ہے کہ اشوک کی یہ توہین اس لئے کی گئی ہے کہ وہ ایک پسماندہ ذات کے سمراٹ تھے ۔ ذات پرست بی جےپی کا اصل چہرہ سامنے آگیاہے۔ بی جے پی کے لیڈر وضاحت دے رہے ہیں کہ اس مصنف کے خیالات سے کیا لینا دینا! کیا ہم نے ابھی سمراٹ اشوک کا شاندار جشن نہیں منایا! ان کو طعنہ دیا جا رہا ہے کہ آپ نے یہ اس وقت کیا جب الیکشن آگے تھے اور آپ پسماندہ ذاتوں کے ووٹ چاہتے تھے۔ جیسا کہ اسی وقت آپ نے بھومیہاروں کے ووٹ حاصل کرنے کے لیے نہرو پریمی دنکر کی تصویر کو ہار پہنائی تھی۔

تو مانگ یہ ہے کہ مصنف سے تمام ایوارڈ واپس لے کر اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ جو اشوک سے محبت کرنے والے ہیں انہیں بھی تاریخ کے اشوک سے کوئی لینادینا نہیں۔ وہ تو رومیلا تھاپر یا نیان جوت لہری کا سردرد ہے۔ اس اشوک کو جاننے کے لیے ان کے نوشتہ جات کو پڑھیں، اس پر لکھی گئی تمام داستانوں کو پڑھیں اور اس بات کا جائزہ لیں کہ ایک سمراٹ اپنی سلطنت کے مسائل سے نمٹنے کے لیے الگ الگ جگہ کیسے کوشش کررہا ہوگا ۔

وہ بجا طور پر کہتی ہیں کہ یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ بدھ مت کی تاریخ نگاری نے اشوک کو کیوں تسبیح دی، لیکن اس قسم کی تاریخ نویسی کے پیچھے کسی خاص مذہب کی عظمت کو ثابت کرنے کے مقصد سے یہ ایک حادثہ ہو سکتا ہے کہ اشوک کی تمام سرگرمیوں اور تمام پیغامات کو ہی سمجھا جائے۔ ایک مذہب کی وکالت میں ایک طویل گفتگو کا حصہ۔ جبکہ وہ ان کے ذریعے اپنے انتظامی مسائل حل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ یا اس سے اس کی انتظامی پالیسی کا پتہ چلتا ہے۔

جو حادثہ اشوک کے ساتھ ہو سکتا تھا یا ہو تا رہاہے ، وہ اورنگ زیب کے ساتھ زیادہ ہوا۔ آج مسلمانوں پر حملوں یا ان کے خلاف نفرت کو جواز بنا کر اورنگزیب کو فلیٹ کردار میں تبدیل کرنا غلط ہے، جس طرح اشوک کے تمام فیصلے، تمام اعمال مذہبی مقاصد کے لیے نہیں تھے، اسی طرح اورنگ زیب کے فیصلے اور جنگیں اس کا مقصد تھا۔ اسلام کی تشہیر یا ہندو مت کی مخالفت کرنا نہیں تھا۔ شاید اورنگ زیب کے ہم عصر بھی یہ سن کر حیران رہ جاتے یاہاں تک کی شیواجی بھی۔

دارا شکوہ کی اسکالر سپریا گاندھی نے درست لکھا ہے کہ آج کے سیکولرازم کے پیمانے پر دارا کی تحقیقات غلط ہے۔ اورنگ زیب سے پہلے اسے سیکولر کرنا اور اورنگ زیب کو فرقہ پرست یا اسلامسٹ کہنا دراصل آج کے دعوے کو تاریخ پر مسلط کر کے آج کی جنگ کے لیے کردار کی تعمیر ہے۔ وہ لکھتی ہیں کہ اگر موقع ملتا تو دارا بھی بادشاہ ہوتا۔ یہ تصور کرنا مشکل ہے کہ اس نے اس وقت کیسے فیصلے کیے ہوں گے۔

جیسا کہ نیان جوت لہری نے اشوکا پر اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ اگر اورنگ زیب یا اشوک کو موقع ملتا تو وہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے لوگوں کو بتاتے جو ایک مصروف بادشاہ نے اپنے دوست سے کہا تھا، ’’اس زمین اور آسمان میں ان کے علاوہ اور بھی چیزیں ہیں ۔ ہوراشیو، جن کا تصور آپ کے ذہن میں ہے۔‘‘

بی جے پی اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے خیال میں صرف ایک ہی تصور ہے، مسلم مخالف۔ ان کی گورننس پالیسی میں اس سے زیادہ کچھ نہیں۔ اس کی وجہ سے وہ ہمیشہ اورنگزیب کو مخالف کے طور پر سامنے رکھتی ہے۔

جب بی جے پی اشوک، شیواجی، گرو تیغ بہادر یا گرو گوبند سنگھ کی طرف سے اورنگ زیب پر حملہ کرتی ہے تو اس کا نشانہ مسلمان ہوتے ہیں۔ لیکن جن کا تخیل اتنا تنگ نہیں ہے، وہ اورنگ زیب کے اس تنگ استعمال پر کچھ نہیں بولتے، بلکہ اسی تصور کو گاڑھا کرتے رہتے ہیں، اس سے خود ان کے بارے میں کیا معلوم ہوتاہے؟

(بشکریہ: ستیہ ہندی )

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

US Iran War Strategic Defeat News
مضامین

امریکہ – اسرائیل – ایران جنگ میں امریکہ کی اسٹریٹجک ہار پہلے سے طے

23 مارچ
Hormuz Strait Iran Speech
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
passport-not-proof-of- indian citizenship

پاسپورٹ شہریت کا حتمی ثبوت نہیں! جانیے پھر شہریت کا اصل اور قانونی ثبوت کیا ہے؟

جون 25, 2026
اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

مارچ 23, 2021
معروف عالمِ دین مولانا سلمان حسینی ندوی انتقال کر گئے

معروف عالمِ دین مولانا سلمان حسینی ندوی دنیا سے رخصت ہو گئے

جون 29, 2026
وینزویلا زلزلہ تباہی

وینزویلا میں قیامت خیز زلزلہ: 32 افراد ہلاک، 700 سے زائد زخمی، کئی عمارتیں زمین بوس

جون 25, 2026
اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

Easy SIR Form Filing

بھارت میں مسلم ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے نکالے جا رہے ہیں؟ UN کی رپورٹ میں بھارت کے SIR عمل پر سوالات

ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

یوگی بولے : روڈ پر نماز ، لا ؤڈ اسپیکر بند،سلاٹر ہاؤس پر تالے

‘جو آج آستھا کی بات کرتے ہیں، انہوں نے ہنومان گڑھی میں نماز پڑھوائی تھی’، ایودھیا میں یوگی آدتیہ ناتھ کا بڑا حملہ

اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

جولائی 13, 2026
Easy SIR Form Filing

بھارت میں مسلم ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے نکالے جا رہے ہیں؟ UN کی رپورٹ میں بھارت کے SIR عمل پر سوالات

جولائی 12, 2026
ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

جولائی 10, 2026
یوگی بولے : روڈ پر نماز ، لا ؤڈ اسپیکر بند،سلاٹر ہاؤس پر تالے

‘جو آج آستھا کی بات کرتے ہیں، انہوں نے ہنومان گڑھی میں نماز پڑھوائی تھی’، ایودھیا میں یوگی آدتیہ ناتھ کا بڑا حملہ

جولائی 10, 2026

حالیہ خبریں

اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

جولائی 13, 2026
Easy SIR Form Filing

بھارت میں مسلم ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے نکالے جا رہے ہیں؟ UN کی رپورٹ میں بھارت کے SIR عمل پر سوالات

جولائی 12, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN