اتوار کی خاموش صبح جامع مسجد میں واقع اردو بازار کی فضاؤں میں تازہ چائے کی خوشبو پھیلتی نظر آئی۔ پہلے کی ہلچل کے مقابلے میں اب مارکیٹ نسبتاً خالی ہے۔ دہلی کا یہ تاریخی اردو بازار اب پکوانوں کی مہک کی وجہ سے جانا جانے لگا ہے ہے۔ تقریباً 40 سال پہلے جگت سینما سے مٹیا محل روڈ کے داخلی دروازے تک سینکڑوں کتابوں کی دکانیں ہوا کرتی تھیں لیکن اس وقت صرف چھ کتابوں کی دکانیں رہ گئی ہیں۔ وہ ہوا جہاں کبھی غالب اور فیض کی شاعری کا چرچا تھا، وہ اب گرم کبابوں کی خوشبو سے معمور ہے۔ اردو بازار کبھی دہلی کی ادبی برادری کا ایک ہلچل کا مرکز تھا۔ اب یہاں پر امن کا ماحول ہے۔ زیادہ تر کبا باور چکن گرائے وغیرہ کی دکانیں گاہکوں کے انتظار میں دوپہر کے بعد ہی کھلتی ہیں۔ کتاب فروش محمد ظریف کا کہنا ہے کہ اردو بازار دہلی کا ایک بڑا بازار ہوا کرتا تھا۔ اصل بازار 1857 کی بغاوت کے بعد تباہ ہو گیا تھا، لیکن اب اس کا نام جامع مسجد کے قریب ایک جگہ کے طور پر باقی ہے۔
انہوں نے کہا کہ دہلی میں اردو تقریباً ختم ہو چکی ہے۔ جہاں پہلے لوگ تھے سعادت حسن منٹو، راجندر سنگھ بیدی، عصمت چغتائی، قرۃ العین حیدر، صادق سردھنوی، الیاس سیتا پوری، نسیم حجازی، واجدہ تبسم، میر و غالب، مومن و ذوق اور داغ۔ فراق کے ناول و مجموعہ شاعری خریدتے تھے۔ آج وہاں چکن فرائی، چکن تندوری، تلی ہوئی مچھلی اور دیگر پکوانوں کی خوشبو پھیلی ہوئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان چیزوں سے ذائقہ تو حاصل ہو جائے گا لیکن ادب اور پڑھنے کا شوق پورا نہیں ہو گا۔
حالت یہ ہے کہ پچھلے دس سالوں میں فروخت آدھی رہ گئی ہے۔
ایک اردو بک شاپ کے مالک رحمان کو روزانہ تقریباً صرف 20 گاہک ملتے ہیں۔ تاہم، زیادہ تر کلائنٹ مذہبی کتابوں اور قرآن کے ترجمے لینے والے ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بہت کم لوگ ادب، سیاسی یا تاریخ کی کتابیں خریدنے آتے ہیں۔ ان کتابوں کی فروخت گزشتہ 10 سالوں میں آدھی رہ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان اب پڑھنے یا ادب کی طرف راغب نہیں ہیں۔ یہ صرف اردو زبان کا معاملہ نہیں، دوسری زبانوں کا بھی یہی معاملہ ہے، آج کل لوگ پڑھنا نہیں چاہتے۔ ان کا کہنا ہے کہ اردو بازار اب کھانے کی منڈی بن چکی ہے۔
ویسے اردو سے ناواقفیت یا عدم دلچسپی میز انٹرنیٹ کی وجہ سے بھی فروخت پر اثر پڑا ہے
خورشید عالم، جو ایک چھوٹی سی عارضی کتابوں کی دکان چلاتے ہیں، نے بتایا کہ یہ واحد حصہ ہے جو انہیں ان کے والد کے انتقال اور جائیداد کی تقسیم کے بعد ملا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ اپنے خاندان میں واحد شخص ہیں جو اردو کتابیں فروخت کرتے ہیں۔ انہوں نے اردو مارکیٹ کے زوال کی وجہ انٹرنیٹ کی آمد کو قرار دیا۔ ان کا دعویٰ ہے کہ لوگ بے معنی ویڈیوز اور ریلوں سے کتابوں کی اہمیت کو نہیں سمجھ پا رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ کتابیں تہذیب و تمدن کی بنیاد ہیں۔ پچھلے 10 سالوں میں اردو کتابوں کی فروخت آدھی رہ گئی ہے۔ تاہم قرآن و حدیث جیسی مذہبی کتابوں کی مانگ میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی۔وہ الحمدللہ آج بھی برقرار ہے









